پاکستان کے ذریعے 10 نکات بھیج دیے: ایران، تجاویز موصول ہو گئیں: ڈونلڈ ٹرمپ

Wait 5 sec.

واشنگٹن (08 اپریل 2026): ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل نے کہا ہے کہ امریکا کو پاکستان کے ذریعے 10 نکات بھیج دیے گئے ہیں، ایران امریکا مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے، جس میں حتمی جنگ بندی پر بات ہوگی۔ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل موجودہ جنگ بندی کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکراتی نکات میں پابندیاں اٹھانے کی شرط رکھی گئی ہے، اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی بھی ان نکات میں شامل ہے۔امریکا کی جانب سے کیے گئے اعلان کو ایران کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس نے ٹرمپ انتظامیہ کی بے مثال دھمکیوں کے باوجود اپنے 10 نکاتی منصوبے میں پیش کردہ مطالبات سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ’’ہمیں ایران کی طرف سے 10 نکاتی تجویز موصول ہو گئی ہے، اور یقین ہے کہ یہ بات چیت کے لیے ایک قابل عمل بنیاد ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ طویل المدتی حتمی امن معاہدے کے بہت قریب ہیں، ماضی کے اہم اختلافی نکات پر امریکا اور ایران کے درمیان اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔امریکی صدر نے فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم شہباز کی درخواست پر ڈیڈ لائن میں 2 ہفتے کی توسیع کر دیڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دو ہفتوں کا عرصہ اس معاہدے کو حتمی شکل دینے اور مکمل کرنے کے لیے مددگار ثابت ہوگا، امریکا کے صدر کی حیثیت سے میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ یہ دیرینہ مسئلہ اب حل ہونے کے قریب ہے، مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے اعزاز ہے کہ دیرینہ مسئلہ حل کے قریب ہے۔انھوں نے کہا امریکا اور ایران کے درمیان ماضی کے تنازعات کے تقریباً تمام مختلف نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، اور دو ہفتے کی مدت اس معاہدے کو حتمی شکل دینے اور مکمل کرنے کو یقینی بنائے گی۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںواضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر 2 ہفتے کی جنگ بندی کر دی ہے، اور اپنا خطرناک حملہ ملتوی کر دیا ہے، ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ان کی پاکستانی وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل سے گفتگو ہوئی، انھوں نے درخواست کی آج رات ایران میں تباہی کو روک دوں، اس لیے ان سے گفتگو کی بنیاد پر 2 ہفتے کے لیے حملے روک رہا ہوں۔تاہم امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بندی ایران کے آبنائے ہرمز کے مکمل تحفظ پر رضامندی سے مشروط ہے، جنگ بندی دو طرفہ ہوگی، جنگ بندی کی وجہ یہ ہے کہ ہم پہلے ہی تمام فوجی مقاصد کو پورا کر چکے ہیں۔