دہلی اسمبلی کی سیکورٹی میں کوتاہی کے سلسلے میں ایک ایس آئی اور ایک اے ایس آئی کو معطل کر دیا

Wait 5 sec.

دہلی پولیس نے اب دہلی اسمبلی میں سیکورٹی میں لاپرواہی کے سلسلے میں کارروائی کی ہے۔ اسمبلی سیکورٹی یونٹ میں تعینات ایک ایس آئی اور ایک اے ایس آئی کو معطل کر دیا گیا ہے ابھی تفتیش جاری ہے۔اس سے پہلے، پیر کو دہلی اسمبلی میں سیکورٹی کی بڑی لاپرواہی کے بعد، اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا نے منگل کو اسمبلی احاطے میں افسران کی ایک بڑی میٹنگ بلائی۔ وزارت داخلہ، دہلی پولیس، انٹیلی جنس بیورو، محکمہ تعمیرات عامہ، ٹریفک پولیس اور اسمبلی کے افسران میٹنگ میں موجود تھے۔ اسپیکر نے واضح طور پر کہا کہ اسمبلی کی سکیورٹی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔میٹنگ میں اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا نے کہا، "اسمبلی کی سیکورٹی میں ذرا سی بھی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ ہر گیٹ پر چوکسی، واضح جوابدہی، اور تمام ایجنسیوں کے درمیان تال میل ضروری ہے۔"اسپیکر نے اسمبلی کے تمام گیٹس پر فوری طور پر ہائیڈرولک روڈ بلاکرز لگانے کا حکم دیا۔ یہ لوہے کی مضبوط رکاوٹیں ہیں جو ضرورت پڑنے پر زمین سے اوپر اٹھتی ہیں اور کسی بھی گاڑی کو اندر جانے سے روکتی ہیں۔وجیندر گپتا نے کہا کہ صرف دروازے پر کھڑے رہنا اب کافی نہیں ہے۔ اسمبلی احاطے میں موبائل پٹرولنگ گاڑی بھی تعینات کی جائے گی تاکہ کسی بھی مشکوک گاڑی یا شخص کی صورت میں فوری کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہر گیٹ پر کم از کم دو اہلکار تعینات کیے جائیں اور انہیں مکمل معلومات اور ضروری سامان فراہم کیا جائے۔میٹنگ میں دہلی پولیس اور سی آر پی ایف کے درمیان مشترکہ کمانڈ سسٹم قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں کسی ایک افسر کے حکم پر فوری کارروائی کی جائے گی۔ اسپیکر نے کہا کہ معلومات کی فراہمی میں معمولی تاخیر بھی سیکورٹی کو کمزور کرتی ہے۔دہلی پولیس کے افسران نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری کو یقینی بنانے کے لیے ہر ماہ فرضی مشقیں کرنے کا مشورہ دیا۔ ایک الارم سسٹم لگانے کا بھی مشورہ دیا گیا جو بیک وقت پورے کمپلیکس کو ایلرٹ کر سکے۔ پی ڈبلیو ڈی حکام نے اسمبلی کے گیٹوں پر مضبوط، فولڈنگ سکیورٹی گیٹس لگانے کی تجویز پیش کی جسےا سپیکر نے منظور کر لیا۔واضح رہے کہ پیر (6 اپریل) کی دوپہر ایک سفید ایس یو وی زبردستی دہلی اسمبلی کے گیٹ نمبر 2 میں گھس گئی۔ گاڑی سیدھی سپیکر کے دفتر کی طرف چلی گئی۔ وہاں پھولوں کا گلدستہ رکھا گیا اور اسپیکر کی گاڑی پر سیاہی پھینکی گئی۔ اس کے بعد ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔بعد میں دہلی پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق گاڑی پر اتر پردیش کا رجسٹریشن نمبر تھا اور ملزم کی شناخت سربجیت سنگھ کے نام سے ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت اسپیکر اپنے دفتر میں موجود تھے اور یہ واقعہ ان کی آمد کے چند منٹ بعد پیش آیا۔ اس واقعہ نے اسمبلی کے حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ جس گیٹ سے گاڑی داخل ہوئی وہاں سیکورٹی کم تھی کیونکہ اس وقت ایوان کا اجلاس نہیں تھا۔