ایران امریکا کے بعد روس اور یوکرین کے درمیان بھی عارضی جنگ بندی پر اتفاق

Wait 5 sec.

ماسکو(10 اپریل 2026): روس اور یوکرین نے آرتھوڈوکس ایسٹر کے موقع پر جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے بعد ولادیمیر پیوٹن نے اپنی روسی افواج کو فائر بندی کا حکم دے دیا ہے۔برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق ماسکو کی جانب سے یہ اعلان ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے جنگ بندی کی بار بار کی جانے والی ان اپیلوں کے بعد سامنے آیا ہے جنہیں اب تک کریملن نے نظر انداز کر رکھا تھا۔اب پیوٹن نے ہفتہ 11 اپریل کی مقامی وقت کے مطابق شام 4 بجے سے لے کر اتوار کو ایسٹر تک جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ یوکرین بھی روس کی "تقلید” کرے گا۔رپورٹ کے مطابق ساتھ ہی پیوٹن نے اپنی افواج کو دشمن کی ممکنہ اشتعال انگیزیوں اور کسی بھی جارحانہ کارروائی کو روکنے کے لیے تیار رہنے کا حکم بھی دیا۔تاہم زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر پوسٹ کیا کہ یوکرین مساوی اقدامات کے لیے تیار ہے۔انہوں نے لکھا کہ لوگوں کو خطرات سے پاک ایسٹر اور امن کی جانب حقیقی پیش رفت کی ضرورت ہے۔اس سے قبل اسی ہفتے زیلنسکی نے کہا تھا کہ انہوں نے امریکا سے درخواست کی ہے کہ وہ پہلے قدم کے طور پر تعطیلات کے اختتامِ ہفتہ پر جنگ بندی کی تجویز ماسکو تک پہنچائے۔رپورٹ کے مطابق جنگ میں کسی بھی قسم کا وقفہ مشرقی یوکرین میں فرنٹ لائن پر موجود ان فوجیوں کے لیے خوش آئند ہوگا جو مسلسل ڈرون حملوں کی زد میں رہتے ہیں۔ اس سے ملک بھر کے عام شہریوں کو بھی سکون ملے گا جن کے لیے فضائی حملوں کے سائرن روزمرہ کا حصہ بن چکے ہیں اور روسی میزائل و ڈرونز مسلسل شہریوں کی جان لے رہے ہیں۔