دہلی (10 اپریل 2026): بھارتی سیاستدان ششی تھرور نے کہا ہے کہ پاکستان کی کامیاب ثالثی اور جنگ بندی پر بھارت کو خوشی منانی چاہیے۔پاکستان کی کامیاب سفارت کاری اور ثالثی کے باعث ایران اور امریکا کے درمیان 15 روزہ جنگ بندی ہوئی اور آج سے اسلام آباد میں فریقین کے درمیان امن مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے۔پاکستان کے خطے اور دنیا میں قیام امن کے لیے ان کاوشوں کو دنیا سراہ رہی ہے لیکن پڑوسی ملک بھارت میں ماتم برپا ہے اور وہاں کا میڈیا مودی پر تنقید کرنے کے ساتھ منافقت کا روایتی مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے لیے ہرزہ سرائی بھی کر رہا ہے۔ایسے میں بھارت کے سینئر سیاستدان اور کانگریس رہنما ششی تھرور کا مثبت بیان سامنے آیا ہے۔ششی تھرور نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان کی اس کامیاب ثالثی پر بھارت کو خوشی منانی چاہیے جس کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی، کیونکہ بھارت بھی امن کا خواہاں ہے۔کانگریس رہنما نے کہا کہ جب پاکستان وہ کام کر رہا ہے جو ہمارے مطلوبہ امن کے لیے ہے، تو ہمیں اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے، بھارتی حکومت نے بھی امن کا خیرمقدم کیا جو ایک درست اور سمجھدار رویہ ہے۔سینئر سیاستدان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے، پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے، اس لیے کسی بھی علاقائی جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑسکتے ہیں، اس لیے پاکستان کا اس تنازع کو ختم کرنے میں دلچسپی لینا فطری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ "جنگل کا قانون” کسی کے مفاد میں نہیں کیونکہ اس سے تمام ممالک طاقت ور قوتوں کے رحم و کرم پر آسکتے ہیں۔ دنیا میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور بھارت کو محض تماشائی بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے۔’’بھارت کے تیل مسائل مودی نے نہیں، پاکستانی وزیراعظم نے حل کرائے‘‘ بھارتی شہری