چینی صدر کی تائیوانی اپوزیشن رہنما سے ملاقات، خطے میں امن کی خواہش پر زور

Wait 5 sec.

بیجنگ(10 اپریل 2026): چین کے صدر شی جن پنگ نے جمعہ کو تائیوان کی بڑی اپوزیشن جماعت کی رہنما کا استقبال کیا، اس نادر ملاقات میں دونوں فریقین نے آبنائے تائیوان میں امن کی خواہش پر زور دیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق جمعہ کو بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں ہونے والی ملاقات میں شی جن پنگ نے کہا "ہماری دونوں جماعتوں کے رہنما آج اپنے مشترکہ وطن کے امن و استحکام کے تحفظ، آبنائے تائیوان کے تعلقات کی پرامن ترقی کے فروغ اور آنے والی نسلوں کو ایک روشن اور خوبصورت مستقبل دینے کے لیے مل رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چین کے ایم ٹی سمیت تمام جماعتوں کے ساتھ تبادلہ خیال اور بات چیت کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے تائیوان کی آزادی کی مخالفت کی شرط لازم ہوگی۔ شی جن پنگ نے اس بات کو دہرایا کہ آبنائے تائیوان کے دونوں اطراف کے لوگ چینی ہیں اور سب امن چاہتے ہیں۔جواب میں چینگ لی ون نے کہا کہ چینی قوم کی بحالی آبنائے کے دونوں اطراف کے لوگوں کی مشترکہ خواہش ہے انہوں نے مزید کہا کہ یہ عالمی امن اور انسانی ترقی کے لیے ایک مثبت شراکت ہوگی۔شی جن پنگ کے ساتھ بند کمرے کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں چینگ نے کہا کہ ہر نسل کے نوجوانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ تائیوان کی آزادی کی مخالفت اور ‘1992 کے اتفاقِ رائے’ پر قائم رہنا ہی جنگ سے بچنے، المیے کو روکنے، مل کر کام کرنے اور امن قائم کرنے کا راستہ ہے۔ یاد رہے کہ 1992 کا اتفاقِ رائے’ اس وقت کی حکمران جماعت کے ایم ٹی اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے درمیان ایک مفاہمت ہے جس کے تحت "ایک چین” کا تصور تسلیم کیا گیا تھا، تاہم اس کی تشریح کے معاملے میں دونوں اطراف کو اپنی اپنی گنجائش دی گئی تھی۔ ڈی پی پی نے ہمیشہ اس اتفاقِ رائے کو مسترد کیا ہے اور اس کا موقف ہے کہ یہ تائیوان کی خودمختاری کو نقصان پہنچاتا ہے۔چینگ لی ون گزشتہ ایک دہائی میں چین کا دورہ کرنے والی کومنتانگ (کے ایم ٹی) کی پہلی برسرِ منصب رہنما ہیں۔ 2016 میں حکمران ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی (ڈی پی پی) کی سائی انگ وین کے صدر بننے کے بعد بیجنگ نے تائیوان کے ساتھ اعلیٰ سطح کے رابطے منقطع کر دیے تھے۔واضھ رہے کہ بیجنگ تائیوان پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس نے خود مختار جزیرے کو طاقت کے زور پر قبضے میں لینے کے امکان کو کبھی مسترد نہیں کیا۔