امریکی جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں، ایران

Wait 5 sec.

تہران (10 اپریل 2026): ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ امریکی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔ایران اور امریکا میں 15 روزہ جنگ بندی معاہدے کے بعد آج دونوں فریقین کے درمیان اسلام آباد میں امن مذاکرات شروع ہو رہے ہیں۔ مذاکرات کے آغاز سے قبل ایران کی جانب سے مثبت بیان سامنے آیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی بحری جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں اور دشمنی پر مبنی طرز عمل اختیار نہ کرنے تک ایسا ہی رہے گا۔سعید خطیب زادہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے۔ تاہم تکنیکی وجوہات کی بنا پر ضروری ہے کہ گزرنے والے جہاز ایرانی افواج سے رابطہ رکھیں۔ایرانی وزیر کا کہنا تھا ہم آبنائے ہرمز میں موجود اپنے محفوظ راستوں کے ذریعے جہازوں کے محفوظ سفر کو یقینی بنائیں گے۔ایران جنگ سے متعلق تمام خبریںواضح رہے کہ اس سے قبل امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی نقل و حمل کے معاملے میں ’بہت خراب کام‘ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ معاہدہ نہیں جو ہمارے درمیان طے ہوا تھا۔دریں اثنا ایران کے سینئر ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے مطابق ایران یومیہ 15 سے زائد جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گزرنے دے گا۔