نیدرلینڈز کا ’شیڈو فادرز‘ اسکینڈل: انسانی ہمدردی کے قانون کی آڑ میں شہریت کی تجارت

Wait 5 sec.

ایمسٹرڈیم: نیدرلینڈز کے محکمہ امیگریشن (آئی این ڈی) کی جانب سے سال 2026 میں جاری کردہ تازہ ترین رپورٹوں نے ملک کے سیاسی و سماجی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ ان انکشافات نے نیدرلینڈز کے قانونی ڈھانچے میں موجود اس شگاف کو بے نقاب کر دیا ہے جسے اب ماہرین "شیڈو فادرز” (سایہ دار باپ) کا نام دے رہے ہیں۔یہ محض ایک انتظامی غلطی نہیں، بلکہ ایک ایسا منظم قانونی دھوکہ دہی کا جال ہے جس کے ذریعے غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن انسانی ہمدردی کے قوانین کا فائدہ اٹھا کر ڈچ شہریت اور رہائشی اجازت نامے حاصل کر رہے ہیں۔ قانون کی آڑ میں قانونی سقم کا استعمالاس پورے بحران کی جڑیں 2017 میں یورپی عدالتِ انصاف کے ایک تاریخی فیصلے میں پیوست ہیں، جسے "شاویز ویلچیز” کیس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس وقت عدالت نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اگر کسی یورپی شہری (بچے) کا واحد نگران کوئی غیر ملکی فرد ہے، تو اسے ملک بدری سے استثنیٰ ملنا چاہیے تاکہ بچے کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔بدقسمتی سے، 2026 تک آتے آتے انسانی ہمدردی پر مبنی یہ نظریہ ایک منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس وقت نیدرلینڈز میں ایک ایسی "بلیک مارکیٹ” فعال ہے جہاں ڈچ شہری بھاری رقوم کے عوض اجنبی بچوں کو اپنا نام دے کر ان کی غیر ملکی ماؤں کے لیے ریذیڈنٹ پرمٹ کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔شیڈو فادرز: کاغذی باپ، حقیقی کاروباراس کھیل میں ‘شیڈو فادر’ کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ وہ ڈچ شہری ہوتے ہیں جن کا متعلقہ بچے یا اس کی ماں سے کوئی جذباتی، حیاتیاتی یا سماجی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ افراد محض بلدیہ (Municipality) کے دفاتر میں جا کر قانونی طور پر بچے کی ولدیت تسلیم کرنے کا اقرار کرتے ہیں۔ جیسے ہی یہ کاغذی کارروائی مکمل ہوتی ہے، بچہ خود بخود ڈچ شہریت کا حامل بن جاتا ہے، اور اس کی ماں "ڈچ بچے کی پرورش” کے نام پر رہائش (Resident Permit) کی اہل قرار پاتی ہے۔ اعداد و شمار اس بحران کی شدت کی گواہی دے رہے ہیں۔ 2024 میں مشکوک کیسز کی تعداد محض 250 تھی، جو اب بڑھ کر 410 سے تجاوز کر چکی ہے۔حیران کن کیسز اور سماجی پیچیدگیحالیہ تحقیقات میں کچھ ایسے ہوش ربا کیسز سامنے آئے ہیں جنہوں نے تفتیشی اداروں کو چونکا دیا ہے: ریکارڈ ساز والد:ایک سورینامی-ڈچ شہری کا کیس سامنے آیا ہے جس نے 47 مختلف درخواستوں میں بچوں کا باپ ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس شخص نے مختلف غیر ملکی خواتین سے رقوم لے کر ان کے بچوں کو اپنا نام دیا۔ کاغذی خاندان:ایک اور شخص نے 17 مختلف خواتین سے 25 بچوں کی قانونی ذمہ داری قبول کی، جبکہ عملی طور پر وہ ان میں سے کسی ایک کی بھی پرورش میں شریک نہیں تھا۔اس معاملے کا ایک اور المیہ وہ "خفیہ خاندان” ہیں جہاں اصل حیاتیاتی باپ بھی غیر قانونی طور پر مقیم ہے۔ ایسے کیسز میں، اصل والدین کسی تیسرے شخص (ڈچ شہری) کو رقم دے کر اسے بچے کا قانونی باپ ظاہر کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ماں اور بچے کو تو قانونی تحفظ مل جاتا ہے، لیکن حقیقی باپ کو اپنی شناخت چھپا کر سائے کی طرح رہنا پڑتا ہے تاکہ دھوکہ دہی کا پردہ چاک نہ ہو جائے۔حکومتی ردِعمل اور مستقبل کی حکمتِ عملیڈچ حکومت اور آئی این ڈی نے اب اس صورتحال کو محض امیگریشن کی خلاف ورزی کے بجائے "انسانی اسمگلنگ” اور "منظم فراڈ” قرار دینا شروع کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں کو قانونی مراعات کے حصول کے لیے مہرے کے طور پر استعمال کرنا ایک سنگین جرم ہے۔اس بحران پر قابو پانے کے لیے درج ذیل اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے: 1. قانون سازی:ایسے کاغذی رشتوں کو تسلیم کرنے کے عمل کو فوجداری جرم قرار دینے کے لیے نئے حکومتی معاہدے کیے جا رہے ہیں۔ 2. عدالتی چیلنج: پراسیکیوشن سروس اب ایسے ٹیسٹ کیسز تیار کر رہی ہے جن کے ذریعے مشکوک ولدیت کے دعووں کو سول عدالتوں میں کالعدم قرار دیا جا سکے۔ 3. بلدیاتی کڑی نگرانی:بلدیہ کے عملے کو خصوصی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ رجسٹریشن کے وقت والدین کے درمیان تعلق کی نوعیت کو پرکھ سکیں اور کسی بھی شک کی صورت میں فوری رپورٹ کریں۔نیدرلینڈز میں ‘شیڈو فادرز’ کا بڑھتا ہوا رجحان نہ صرف امیگریشن نظام کے لیے ایک چیلنج ہے بلکہ یہ شہریت کے مقدس رشتے کی توہین بھی ہے۔ انسانی حقوق کی آڑ میں کیے جانے والے اس مالی مفاد کے کھیل کو روکنے کے لیے صرف سخت قوانین ہی کافی نہیں ہوں گے، بلکہ ایک ایسے فول پروف نظام کی ضرورت ہے جہاں قانون کی روح کو ذاتی فائدے کی بھینٹ نہ چڑھایا جا سکے۔