قومی راجدھانی سے ملحق اترپردیش کے صنعتی شہر نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر مزدوروں کے ہنگامے کے بعد آخر کار حکومت حرکت میں آئی اور ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ پیر کو دیررات کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر مزدوروں کو فوری راحت دیتے ہوئے کم از کم اجرت کی شرح میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ نئے احکامات یکم اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوں گے۔ حکومتی حکم نامے کے مطابق یہ اضافہ مختلف زمروں میں کیا گیا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ تقریباً 3000 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے مزدوروں کی بڑی تعداد کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔نوئیڈا میں ملازمین کا پُرتشدد احتجاج، اکھلیش نے بی جے پی حکومت کو بنایا نشانہچارٹ کے مطابق گوتم بدھ نگر اور غازی آباد میں غیر ہنر مند مزدوروں کی اجرت 11,313 سے بڑھا کر 13,690 روپے کر دی گئی ہے یعنی 2,377 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ وہیں نیم ہنر مند مزدوروں کی اجرت 12,445 سے بڑھا کر 15,059 روپے کر دی گئی ہے۔ اس میں 2,614 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ ہنر مندمزدوروں کی اجرت 13940 سے بڑھا کر 16868 روپے کر دی گئی ہے اس میں 2928 کا اضافہ کیا گیا ہے۔دیگر میونسپل کارپوریشن علاقوں میں غیر ہنر مند مزدوروں کی اجرت 11313 سے بڑھا کر 13006 کر دی گئی ہے۔ اس میں 1693 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے وہیں نیم ہنر مند مزدوروں کی اجرت 12445 میں 1861 روپے بڑھا کر 14306 کر دی گئی ہے۔ جبکہ ہنر مند مزدوروں کی اجرت 13940 سے بڑھا کر 16025 کردی گئی ہے یعنی اس میں 2085 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔تنخواہ میں اضافہ کے مطالبے پر نوئیڈا سے فرید آباد تک وبال، ملازمین کا پرتشدد احتجاج، پولیس پر پتھراؤ اور گاڑیاں نذر آتشاسی طرح دیگر اضلاع میں غیر ہنر مند مزدوروں کی اجرت 11313 سے بڑھا کر 12356 کر دی گئی یعنی 1043 کا اضافہ، نیم ہنر مند مزدوروں کے لیے 12445 سے بڑھا کر 13591 کر دیا گیا، اس میں 1146 کا اضافہ ہوا ہے جبکہ ہنر مندوں کی اجرت 13940 سے بڑھا کر 15224 کردی ہے اس میں 1284 کا اضافہ ہوا ہے۔سرکاری احکامات میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ صنعت کو اس وقت کئی معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، برآمدات میں کمی اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت شامل ہیں۔ اس کے باوجود محنت کشوں کے مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے یہ متوازن فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے مزدوروں کو راحت ملے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ صنعتوں کا کام متاثر نہ ہو۔ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ فیصلہ فوری راحت کے طور پر لیا گیا ہے۔لیبر قوانین کے تحت جامع جائزہ کے ساتھ ویج بورڈ کے ذریعے مستقل حل کا عمل شروع کیا جائے گا۔ پریس ریلیز میں سوشل میڈیا پر کم از کم اجرت 20ہزار روپے مقرر کیے جانے سے متعلق خبروں کو گمراہ کن بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صرف سرکاری احکامات پر ہی بھروسہ کیا جائے۔