واشنگٹن : امریکی ٹی وی سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام جنگ بندی مدت ختم ہونے سے پہلے آمنے سامنے دوسری ملاقات پر غور کررہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے حل کے لیے سفارتی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام موجودہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے ایران کے ساتھ دوسری براہِ راست ملاقات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ کے اہم ارکان اس وقت ایرانی حکام کے ساتھ ممکنہ "ذاتی ملاقات” کے ایجنڈے اور مقام پر تبادلہ خیال میں مصروف ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا یہ دوسرا راؤنڈ بھی اسلام آباد میں ہونے کا قوی امکان ہے، تاہم عمان یا مشرقِ وسطیٰ کے کسی اور ملک کو بھی بطور متبادل زیرِ غور رکھا گیا ہے۔دوسری جانب امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ نے ایک اہم رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات کے دوران ایران نے پانچ سال کے لیے یورینیم کی افزودگی معطل کرنے کی پیشکش کی تھی۔ تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔رپورٹ کے مطابق امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کم از کم 20 سال تک یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روک دے اور اپنا پہلے سے موجود انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بیرونِ ملک منتقل کرے۔تاہم ایران نے امریکی شرائط کو کڑی قرار دیتے ہوئے ماننے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث حتمی معاہدے پر پیش رفت تاحال تعطل کا شکار ہے۔سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں تو جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے کسی عبوری معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔