مکہ مکرمہ: سعودی عرب میں حج 2026 کے مقدس سفر کا آغاز قریب ہے، اور سعودی حکومت کی جانب سے منیٰ میں دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں عازمینِ حج کے خیرمقدم کے لیے تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔سعودی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق منیٰ کو ’خیموں کا شہر‘ بھی کہا جاتا ہے، یہ عازمین کے قیام کا مرکزی مقام ہے جہاں اس بار کئی نئی سہولیات متعارف کروائی جا رہی ہیں۔دوسری جانب ہزاروں پاکستانی عازمینِ حج کی بڑی مشکل آسان ہوگئی ہے، لاہور ایئرپورٹ کو بھی باضابطہ طور پر‘روڈ ٹو مکہ’منصوبے میں شامل کر لیا گیا ہے۔اس فیصلے سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہزاروں عازمینِ حج کی ایک بڑی مشکل حل ہو گئی ہے۔لاہور ایئرپورٹ پر ڈائریکٹر آپریشن حج سعودی فواذ سعود الشریفی نے ایئرپورٹ انتظامیہ کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں انہوں نے منصوبے کی تفصیلات پر بریفنگ دی۔سعودی حکام نے لاہور ایئرپورٹ انتظامیہ کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ اس سال لاہور سے روانہ ہونے والے تمام عازمینِ حج کی امیگریشن کا عمل پاکستان میں ہی مکمل کیا جائے گا۔سعودی عرب: فضائی کمپنی ’السعودیہ‘ نے مسافروں کو خوشخبری سنادی‘روڈ ٹو مکہ’منصوبے کے تحت عازمین کی سعودی امیگریشن اور کسٹم کلیئرنس پاکستان کے ایئرپورٹس پر ہی سعودی حکام کے ذریعے مکمل کر لی جاتی ہے۔اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ حجاج کرام کو سعودی عرب پہنچنے پر طویل قطاروں اور انتظار کی زحمت نہیں اٹھانی پڑتی اور وہ ایئرپورٹ سے سیدھے اپنی رہائش گاہوں کو روانہ ہو جاتے ہیں۔