’دہلی میں کسانوں سے وعدہ خلافی، بنگال میں سیاست‘، ڈاکٹر نریش کمار کا ریکھا گپتا پر سخت حملہ

Wait 5 sec.

نئی دہلی: دہلی کانگریس کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے مغربی بنگال میں کسانوں سے متعلق دیے گئے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو حکومت دہلی میں کسانوں کے ساتھ انصاف کرنے میں ناکام رہی ہے، اسے دوسری ریاست میں جا کر کسانوں کے نام پر سیاست کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ریکھا گپتا مغربی بنگال میں وہاں کی حکومت پر کسانوں کی زمین چھیننے کا الزام لگا رہی ہیں، لیکن دہلی میں ان کی اپنی حکومت کسانوں کی زمین، معاوضہ، سرکل ریٹ اور دیگر بنیادی مسائل پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق دہلی کے کسان طویل عرصے سے اپنے مانگوں کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، مگر انہیں صرف کھوکھلے وعدے اور یقین دہانیاں ہی دی گئی ہیں۔ڈاکٹر نریش کمار نے الزام لگایا کہ انتخابی منشور میں کسانوں سے کیے گئے وعدے حکومت بننے کے بعد پورے نہیں کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں کسانوں کی زرعی زمین کے سرکل ریٹ سنہ 2008 سے اب تک نہیں بڑھائے گئے، جس کی وجہ سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ طویل عرصے سے زیر التوا لینڈ پولنگ اسکیم کو بھی اب تک نافذ نہیں کیا گیا، جبکہ اس کے نفاذ سے کسانوں کو اپنی زمین کا بہتر فائدہ مل سکتا تھا۔ اس کے علاوہ کسانوں کو اپنی فصل کی کم از کم امدادی قیمت پر خرید کی ضمانت بھی نہیں دی گئی، جس کی وجہ سے وہ اپنی پیداوار کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے حالیہ بے موسم بارش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کسانوں کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا، مگر فی ایکڑ پچاس ہزار روپے معاوضے کی مانگ کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں کا واضح ثبوت ہے۔ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقتدار میں آنے سے پہلے دہلی کو کسان ریاست کا درجہ دینے کا مسئلہ زور شور سے اٹھایا تھا، لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد اسے فراموش کر دیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر دہلی کو کسان ریاست کا درجہ دے اور کسانوں سے کیے گئے وعدے پورے کرے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ میں اخلاقی جرات ہے تو وہ پہلے دہلی کے کسانوں کو یہ بتائیں کہ ان کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق دہلی کے دیہی علاقے نظر انداز ہیں اور کسان بدحال ہیں، جبکہ حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے دوسری ریاستوں میں بیانات دے رہی ہے۔انہوں نے حکومت کے اندر تال میل کی کمی کا بھی الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور ان کے وزراء کے درمیان ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے ترقیاتی کام متاثر ہو رہے ہیں اور عوام کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔