تہران (12 اپریل 2026): ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی دھمکی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دوٹوک جواب دیتے ہوئے خبردار کر دیا۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ آبنائے ہرمز میں دشمن کو موت کے بھنور میں پھنسا دیں گے، آبی گزر گاہ پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔پاسداران انقلاب نے کہا کہ دشمن کی کوئی بھی غلط حرکت اسے مہلک بھنور میں جکڑ لے گی، اپنی آبی سرحدوں کے دفاع کیلیے پوری طرح تیار ہیں، کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ٹرمپ نے کیا دھمکی دی؟واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنے جا رہی ہے، آبی گزر گاہ سے کسی بھی جہاز کو گزرنے نہیں دیا جائے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ امریکی بحریہ کو بین الاقوامی سمندر میں ایرانی جہازوں کو روکنے کی ہدایت کر دی، آبنائے ہرمز میں ایران کی بچھائی گئی بارودی سرنگیں تباہ کر دیں گے، پُرامن جہازوں پر گولی چلانے والے ایرانیوں کو ہلاک کر دیا جائے گا۔انہوں نے لکھا کہ ایران آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہا، اس کی وعدہ خلافی سے دنیا بھر میں بے چینی اور مشکلات پیدا ہوئیں، تہران نے سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کا دعویٰ کیا حالانکہ ایرانی بحریہ اور بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں تباہ ہو چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں شاید بارودی سرنگیں نہ ہوں لیکن کون خطرہ مول لے گا؟ کوئی شپنگ کمپنی نہیں چاہے گی کہ اس کا جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔چین کو تیل کی فراہمی کی پیشکشبعدازاں، فاکس نیوز سے ٹیلی فون پر گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے سبب چین کو تیل کی فراہمی کی پیشکش کی۔امریکی صدر نے کہا کہ چین کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے مسئلہ ہے تو خالی جہاز امریکا لائے اور تیل بھر کر لے جائے، چین سے ہم کہہ چکے ہیں کہ وینزویلا جاؤ جتنا چاہے تیل اپنے ملک لے آؤ۔