اسرائیلی فوج کی درندگی : 9 سالہ فلسطینی طالبہ کے سر میں گولی مار دی

Wait 5 sec.

غزہ میں اسرائیلی فوج کی بربریت جاری ہے، کلاس روم میں بیٹھی 9 سالہ فلسطینی طالبہ کے سر میں گولی مار کر شہید کردیا گیا۔غزہ کے شمالی غزہ کے علاقے بیت لاہیا میں اسرائیلی افواج کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 9 سالہ فلسطینی طالبہ رتاج عبدالرحمن ریحان اپنی کلاس میں شہید ہوگئی۔غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق معصوم فلسطینی طالبہ ریاضی کے سوالات حل کر رہی تھی کہ اسرائیلی فوجی کی گولی اس کے سر میں لگی، جس سے اس کی کاپی قلم کی سیاہی کے بجائے اس کے خون سے رنگ گئی۔رتاج ابو عبیدہ بن الجراح اسکول کی اس کلاس میں مزید 40 بچے اور بھی موجود تھے، فلسطینی طالبہ کو شدید زخمی حالت میں اسے اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے والدین کے پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئی۔شپہید طالبہ کے والد عبدالرحمن نے بتایا کہ میں روزانہ اپنی بیٹی کو اسکول اس امید کے ساتھ چھوڑتا تھا کہ وہ دنیا کے دوسرے بچوں کی طرح تعلیم حاصل کرے گی، جو کچھ آج ہوا اس کا کبھی تصور نہیں کیا تھا۔ریتاج کی غم سے نڈھال والدہ علا نے خون آلود کاپی دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ اس کی نوٹ بک ہے، یہ وہ سبق ہے جو وہ مکمل نہ کرسکی۔ یہ سیاہی نہیں بلکہ میری بیٹی کا خون ہے، یہ اسرائیل کے جرائم کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔واضح رہے کہ مذکورہ اسکول اسرائیل کی قائم کردہ نام نہاد “ییلو لائن” سے تقریباً دو کلومیٹر دور واقع ہے، جسے نسبتاً محفوظ علاقہ قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم مقامی شہریوں کے مطابق اسرائیلی توپ خانے اور نشانہ باز ایسے محفوظ علاقوں پر بھی مسلسل فائرنگ کرتے رہتے ہیں۔غزہ: اسرائیلی فوج نے باپ کے سامنے 10 ماہ کے بیٹے کا جسم سگریٹوں سے داغ دیا!