جے ڈی وینس کا دورہ بھی کام نہ آیا، ٹرمپ کے اتحادی وکٹر اوربان کے 16 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا

Wait 5 sec.

بڈاپسٹ (13 اپریل 2026): جے ڈی وینس کا دورہ بھی کام نہ آیا، ہنگری کے عوام نے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان کو 16 سال بعد ایک بڑے انتخابی جھٹکے میں اقتدار سے باہر کر دیا، وکٹر نے میڈیا کی آزادی پر سخت پابندیاں لگائیں اور ریاستی اداروں کو کمزور کیا۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہنگری کے ووٹروں نے انتخابات میں اتوار کو طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والے وزیر اعظم وکٹر اوربان کو سولہ سال بعد اقتدار سے باہر کر دیا، اور ان کی سخت گیر پالیسیوں اور عالمی انتہائی دائیں بازو کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے ایک یورپ نواز حریف کے حق میں فیصلہ دے دیا۔وکٹر اوربان نے انتخابات میں شکست کو تسلیم کر لیا، جن کی پارٹی کو 55 اور پیٹر مجار کی پارٹی کو 135 نشستوں پر برتری حاصل رہی، ٹِسزا پارٹی کے رہنما پیٹر مجار انتخابات میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔یہ انتخابی نتیجہ غیر معمولی ہے، اور اس کے اثرات صرف ہنگری تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپی یونین، عالمی سیاست اور دیگر ممالک کی پالیسیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔آسٹریلیا کو ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل ہونے کی درخواست نہیں کی، انتھونی البانیزیہ نتیجہ اوربان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، انھوں نے اس نتیجے کو ’’تکلیف دہ‘‘ قرار دیتے ہوئے جلد ہی شکست تسلیم کر لی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس چند ہی دن قبل ہنگری کا دورہ کر چکے تھے تاکہ اوربان کی حمایت کر سکیں۔انتخابات جیتنے والے پیٹر مَجار (Péter Magyar) پہلے اوربان کے حامی رہے تھے، لیکن انھوں نے بدعنوانی کے خلاف اور صحت، ٹرانسپورٹ جیسے عوامی مسائل پر مہم چلائی۔ انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہنگری کے یورپی یونین اور نیٹو کے ساتھ تعلقات دوبارہ بہتر کریں گے، جو اوربان کے دور میں کشیدہ ہو گئے تھے۔پیٹر کی جیت سے یورپی یونین کے اندر سیاسی صورت حال بدلنے کی توقع ہے، جہاں اوربان اکثر اہم فیصلوں کو ویٹو کر کے رکاوٹ ڈالتے تھے، جس سے خدشہ تھا کہ وہ اندر سے اس اتحاد کو کمزور کرنا چاہتے تھے۔ یہ نتیجہ دنیا بھر کی انتہائی دائیں بازو کی تحریکوں پر بھی اثر ڈالے گا، جو اوربان کو ایک مثال کے طور پر دیکھتی تھیں کہ کس طرح قوم پرستانہ سیاست کے ذریعے طاقت حاصل کی جا سکتی ہے۔اوربان نے اپنے بیان میں کہا ’’میں کامیاب جماعت کو مبارک باد دیتا ہوں، ہم اپوزیشن میں رہ کر ہنگری اور اپنے وطن کی خدمت کریں گے۔‘‘ جب کہ دریائے ڈینیوب کے کنارے جشن مناتے ہوئے ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے مجار نے کہا کہ ان کے ووٹروں نے ہنگری کی تاریخ بدل دی ہے۔ بڈاپسٹ کی سڑکوں پر لوگوں نے گاڑیوں کے ہارن بجائے، حکومت مخالف گانے چلائے اور نعرے لگائے۔ کئی لوگوں نے ’روسی واپس جاؤ‘ کے نعرے بھی لگائے۔قومی انتخابی دفتر کے مطابق ووٹنگ ٹرن آؤٹ تقریباً 80 فی صد رہا، جو ہنگری کی کمیونزم کے بعد کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اوربان ابتدائی زندگی میں ایک لبرل اور سوویت مخالف رہنما سمجھے جاتے تھے لیکن پھر ایک روس نواز قوم پرست رہنما بن گئے تھے۔ اپنے 16 سالہ دورِ حکومت میں اوربان نے اقلیتوں کے حقوق اور میڈیا کی آزادی پر سخت پابندیاں لگائیں، ریاستی اداروں کو کمزور کیا، اور ان پر اپنے قریبی کاروباری حلقوں کو فائدہ پہنچانے کے الزامات بھی لگے جن کی وہ تردید کرتے رہے ہیں۔