لندن(13 اپریل 2026): برطانیہ ایران کے خلاف امریکی فوجی ناکہ بندی نافذ کرنے کے عمل میں شامل نہیں ہوگا۔برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ ایران کے خلاف امریکی فوجی ناکہ بندی نافذ کرنے کے عمل میں شامل نہیں ہوگا۔ برطانوی بحری جہاز اور فوجی ایرانی بندرگاہوں کو بند کرنے کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے۔حکومتِ برطانیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم جہاز رانی کی آزادی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی حمایت جاری رکھیں گے، کیونکہ عالمی معیشت اور مقامی سطح پر زندگی گزارنے کی لاگت کو قابو میں رکھنے کے لیے اس کا کھلنا انتہائی ضروری ہے۔ترجمان برطانوی حکومت کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کے لیے کوئی ٹول عائد نہیں ہونا چاہیے۔برطانیہ فرانس اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ آزاد جہاز رانی کے تحفظ کے لیے وسیع اتحاد بنانے پر کام کر رہا ہے۔یہ بھی پڑھیں: امریکا آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے تمام جہازوں کو روکے گا، ٹرمپ کا اعلانامریکا نے اس ناکہ بندی کا اعلان ایران کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا، دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے خطے میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے۔واضح رہے کہ عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز کے بعد سے ایران نے اس آبی گزرگاہ کو مؤثر طریقے سے بند کر رکھا ہے۔وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے تنازع میں برطانیہ کی براہ راست فوجی شمولیت کو بارہا مسترد کیا ہے۔ ایران کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر برطانیہ نے مسلسل آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ناکہ بندی کے اس اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔