حقائق مسخ نہ کیے جائیں، آبنائے ہرمز 28 فروری تک فعال تھی، روس

Wait 5 sec.

ماسکو : روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق حقائق کو مسخ نہ کیا جائے، کیونکہ 28 فروری تک یہ آبی گزرگاہ مکمل طور پر فعال تھی۔روسی وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں جاری امریکا ایران مذاکرات اور مشرق وسطیٰ کی تازہ صورت حال پر جاری بیان میں کہا ہے کہ آبی گزرگاہ کے حوالے سے واقعات کی ترتیب غلط انداز میں پیش کی جا رہی ہے۔روسی وزارت خارجہ کے مطابق خلیج فارس میں کشیدگی کے حل کا ایک اہم موقع پیدا ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور بیشتر ممالک ان مذاکرات کی حمایت کررہے ہیں۔ افسوس کچھ قوتیں قیامِ امن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہی ہیں۔ترجمان نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض قوتیں خطے میں قیام امن کی کوششوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہیں۔روسی وزارت خارجہ کے مطابق ایران پر جارحیت کرنے والے عناصر اب اسی ملک کو جہاز رانی کے مسائل کا ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں جو حقائق کے منافی ہے۔روسی حکام نے زور دیا کہ اس تباہ کن تنازع کے بنیادی اسباب کا خاتمہ موجودہ مرحلے پر اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے، کیونکہ اس کے اثرات جزیرہ نما عرب کے ممالک تک پھیل رہے ہیں۔روس نے لبنان پر جاری میزائل و فضائی حملوں اور فوجی کارروائیوں کے فوری خاتمے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کے باہمی اختلافات صرف سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیے جانے چاہئیں۔روسی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ماسکو امن کے قیام کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے پرعزم ہے، جبکہ اسلام آباد مذاکرات میں شریک تمام فریقین سے ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے جو مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات پاکستانی حکومت کی ثالثی میں اسلام آباد میں جاری ہیں۔