نیویارک: ایران و امریکا کے درمیان ہونے والی دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی کا متعدد ممالک کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران کو تباہ کرنے کے ارادے کو اس وقت روکنے کے لیے تیار ہیں جب تک کہ ایران جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے پر تیار ہو جائے۔رپورٹس کے مطابق اس سے قبل دن کے وقت اُن کا کہنا تھا کہ ’آج رات ایک پوری تہذیب مر جائے گی۔‘ایکس پر ایک پوسٹ میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے جمعے کو ایرانی اور امریکی وفود کو اسلام آباد میں ملاقات کی دعوت دی ہے۔عراق کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کا ’خیر مقدم‘ کرتا ہے اور ممالک کے درمیان ’سنجیدہ اور پائیدار مذاکرات‘ کا مطالبہ کیا۔آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز کا کہنا تھا کہ ان کا ملک امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے خیرمقدم کرتا ہے اس سے بات چیت کے ذریعے تنازع کے حل میں مدد ملے گی۔مصر کی وزارت خارجہ نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک اور اردن کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اہمیت پر زور دیا اور ان کی خودمختاری کے خلاف کسی بھی اقدام یا خطرے کو مسترد کیا اور خصوصی طور پر ان ممالک اور خود مصر کی سلامتی کے درمیان لنک کا تذکرہ بھی کیا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ سیکرٹری جنرل امریکہ اور ایران کی طرف سے دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ایران امریکا مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوں گےواضح رہے کہ تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی جب امریکا اور ایران دو ہفتے کی جنگ بندی پر رضامند ہوئے جبکہ سٹاکس میں تیزی بھی آئی کیونکہ معاہدے کی تحت ایران آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر دوبارہ کھولے گا۔