(9 اپریل 2026): برازیل سے تعلق رکھنے والی فوجی امور کی تجزیہ کار نے ایران کے میزائل ذخائر کے بارے میں مغربی انٹیلیجنس کے اندازوں کو چیلنج کرتے ہوئے حیران کن اعداد و شمار سامنے لے آئیں۔تجزیہ کار پیٹریشیا مارنز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انہوں نے بتایا کہ میرے تخمینے کے مطابق ایران کے پاس اس وقت 17 ہزار سے زائد بیلسٹک اور کروز میزائل موجود ہیں۔پیٹریشیا مارنز کے مطابق گزشتہ سال 12 روزہ جنگ کے دوران انہوں نے اندازہ لگایا تھا کہ ایران کے پاس فعال یونٹس اور ریزرو سمیت مجموعی طور پر تقریباً 20 ہزار میزائل موجود ہیں جن میں 7 سے 8 ہزار بیلسٹک اور 12 سے 13 ہزار کروز میزائل شامل ہیں۔یہ بھی پڑھیں: ایران کے تباہ کن میزائلوں پر ایک نظر’ایران نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں شہاب-2 سے بیلسٹک میزائلوں کی بڑے پیمانے پر تیاری شروع کی جو تقریباً 15 سال تک تیار کیے گئے۔ اس کے بعد 2004 سے 2008 تک شہاب-3 کی پیداوار جاری رہی۔ اگرچہ ان ابتدائی ماڈلز کی درستگی میں بہتری کی ضرورت تھی لیکن ایران نے 2015 میں ایک بڑا ریفربشمنٹ پروگرام شروع کیا تاکہ گائیڈنس سسٹم اور وار ہیڈز کو جدید بنایا جا سکے جبکہ ہزاروں پرانے میزائل اب بھی ریزرو میں موجود ہیں۔‘تجزیہ کار نے مزید کہا کہ اگر ہم ہر ماڈل کی سالانہ پیداوار کا محتاط اندازہ صرف 100 یونٹس بھی لگائیں تو گزشتہ 15 سالوں میں ایران کا اسلحہ خانہ 17 ہزار میزائل سے تجاوز کر جاتا ہے۔How many missiles does Iran stilll have?During the 12-day war, I estimated Iran’s missile stockpile at around 20,000, based on the number of different models and the years they entered production. Of that total, I calculated approximately 7,000 to 8,000 ballistic missiles and… pic.twitter.com/colHgn2INz— Patricia Marins (@pati_marins64) April 9, 2026ایکس پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ 2010 تک ایران پہلے ہی میزائل کے تقریباً 12 ماڈلز تیار کر رہا تھا، 2015 کے بعد سے کم از کم 8 سے 12 ایسے ماڈلز تیار کیے جا رہے ہیں جن کی رینج 1000 کلومیٹر سے زیادہ ہے، سومار اور مشکوٰۃ جیسے کروز میزائل اور عماد اور سجیل جیسے ٹھوس ایندھن والے بیلسٹک میزائلوں کی رینج اب 2000 کلومیٹر سے زائد ہے۔پیٹریشیا مارنز نے مغربی تھنک ٹینکس کے ان دعووں کو غیر منطقی قرار دے کر مسترد کر دیا کہ فروری تک ایران کے پاس صرف 2500 میزائل تھے۔ انہوں نے مثال دی کہ روس یوکرین میں بھرپور جنگ لڑنے کے باوجود سالانہ تقریباً 2500 درست نشانہ لگانے والے میزائل تیار کر رہا ہے۔’اس بات میں کوئی منطق نہیں ہے کہ ایران نے 30 سال سے زائد عرصے تک متعدد فعال پروڈکشن لائنوں کے ساتھ میزائل سازی کیلیے وقف کیا اور اس کے پاس صرف 2500 میزائلوں کا ذخیرہ ہو۔‘ان کے مطابق ایران نے میزائل سیکٹر کیلیے 300 سے زائد کمپنیوں پر مشتمل ایک مکمل دفاعی ماحولیاتی نظام تیار کیا ہے جسے مختلف دفاعی شعبوں میں مزید 6500 نالج بیسڈ کمپنیوں کا تعاون حاصل ہے۔