کیرالہ: ’آبکاری وزیر تباہناک منصوبوں کے حامی‘، سیلاب میں 500 اموات معاملہ پر کانگریس کا سنگین الزام

Wait 5 sec.

کیرالہ میں پیر کے روز کانگریس اور یوتھ کانگریس کے کارکنان نے آبکاری وزیر کرشن کٹی کے خلاف زوردار احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے چتور میں وزیر کےد فتر تک مارچ نکالا، جو کہ 2018 میں آئے سیلاب کے دوران پشتوں کے غلط مینجمنٹ سے ناراضگی کا اظہار تھا۔ اس سیلاب میں سینکڑوں لوگوں ہلاک ہو گئے تھے اور ہزاروں کروڑ روپے کی ملکیت تباہ ہو گئی تھی۔حال ہی میں کانگریس رکن اسمبلی میتھیو کجھالنادن نے ایک مبینہ آیڈیو کلپ جاری کی، جس میں آبکاری وزیر کرشن کٹی کی آواز ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس میں وہ پہلی پینارائی وجین حکومت کے دوران آئے سیلاب کے لیے اُس وقت کے آبی وسائل وزیر میتھیو ٹی تھامس اور بجلی بورڈ کے افسران کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔آج مظاہرہ کے دوران پولیس نے مظاہرین کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کی، اور جب اس میں کامیابی نہیں ملی تو پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ مظاہرین وزیر سے صفائی اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ حالانکہ اسمبلی انتخاب کے بعد ابھی ریاست میں صرف کارگزار حکومت ہی کام کر رہی ہے۔ کرشن کٹی نے اس بار انتخاب لڑا بھی نہیں تھا۔ ان کی پارٹی نے چتور سے وی مروکاداس کو میدان میں اتارا تھا۔کانگریس امیدوار سمیش اچیوتن نے بھی اس احتجاجی مظاہرہ میں حصہ لیا۔ اچیوتن نے صحافیوں سے کہا کہ یہ تحریک مزید تیز ہوگی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ 2018 کے سیلاب کے پیچھے کی سازش میں کرشن کٹی بھی شامل تھے۔ انھوں نے ان کاموں کی حمایت کی، جس کے سبب ایسی آفت آئی کہ تقریباً 500 لوگ ہلاک ہو گئے اور 50 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی ملکیت کا نقصان ہوا۔ اچیوتن کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سیلاب سے جڑی بے ضابطگیوں کی جانکاری ہونے کے باوجود کرشن کٹی نے تھامس کے ساتھ معاہدہ کیا اور دوسری ایل ڈی ایف حکومت میں وزارتی عہدہ حاصل کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ اس آڈیو کلپ سے صاف ہے کہ اسمبلی میں سیلاب کو لے کر دی گئی جانکاری غلط تھی۔دوسری طرف آبکاری وزیر کرشن کٹی نے ان الزامات کو خارج کر دیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے کبھی ایسے بیانات دیے ہی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آڈیو کلپ آرٹیفیشیل انٹلیجنس (اے آئی) کی مدد سے تیاری کی گئی ہو سکتی ہے۔