امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران مذاکرات کے لیے اسٹینڈ بائی پر

Wait 5 sec.

واشنگٹن (07 اپریل 2026): ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے اور براہِ راست مذاکرات کی صورت میں ان کی شمولیت متوقع ہے۔امریکی جریدے پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات کی قیادت اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کر رہے ہیں، تاہم پیش رفت کی صورت میں جے ڈی وینس کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں، جب کہ امریکی حکام اور ایرانی قیادت کے درمیان بیک چینل رابطے بھی برقرار ہیں۔رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس زیادہ تر پسِ پردہ رہتے ہوئے ثالثوں کے ذریعے رابطوں میں مصروف رہے ہیں تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںپولیٹیکو نے مزید بتایا کہ اتوار کی رات جے ڈی وینس پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی رابطے میں رہے، جب کہ پاکستان اس ممکنہ معاہدے میں ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فریقین کے درمیان 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز بھی زیر غور ہے، جسے ممکنہ پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ادھر صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مثبت مذاکرات جاری ہیں، نائب صدر جے ڈی وینس کے دوستوں کے تعاون سے مذاکرات ہو رہے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا ایران امن معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو گیا ہے، اور ممکنہ امن معاہدے کے لیے بات چیت میں مثبت نتائج کا امکان ہے، آئندہ 24 گھنٹوں میں امریکا ایران مذاکرات کے نتائج متوقع ہیں۔