سائبر جعلسازوں نے ایم بی بی ایس طالبہ سمیت 3 خواتین کو بنایا نشانہ، ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کر لوٹ لیے لاکھوں روپے

Wait 5 sec.

ملک میں بڑھتے ہوئے سائبر فراڈ پر شکنجہ کسنے اور شہریوں کے مالی لین دین کو محفوظ بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے کئے جارہے دعوؤں کے درمیان قومی راجدھانی سے ملحق نوئیڈا کے سیکٹر 74 میں واقع سپرٹیک کیپ ٹاؤن سوسائٹی سے سائبر فراڈ کا ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ سائبر جعلسازوں نے ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کی حرکت کر کے 2 بزرگ خواتین اور ایک ایم بی بی ایس طالبہ کو 6 دن تک اپنے جال میں پھنسا کر رکھا اور پھر اس دوران ان کے لاکھوں روپے ہڑپ کرلیے۔ اس واردات سے متاثرین اس قدر خوفزدہ ہوئے کہ انہوں نے کسی سے رابطہ تک نہیں کیا۔دہلی: ساؤتھ-ویسٹ سائبر پولیس نے سرمایہ کاری کے نام پر فراڈ کرنے والے ایک بڑے گروہ کا کیا پردہ فاش، 11 افراد گرفتاراطلاعات کے مطابق جعلسازوں نے سرکاری ایجنسیوں اور پولیس افسران کا روپ دھار کر خواتین کو فون کالز کے ذریعے ڈرایا دھمکایا۔ انہیں کہا گیا کہ ان کے خلاف سنگین مقدمہ درج ہے اور انہیں ڈیجیٹل گرفتاری میں رکھا گیا ہے۔ اس کے بعد فون اور ویڈیو کالز کے ذریعے ان پر مسلسل نظر رکھی گئی جس سے وہ شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہوگئے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سوسائٹی میں پڑوسیوں نے دیکھا کہ خواتین کئی دنوں سے اپنے فلیٹ سے باہر نہیں نکلی ہیں۔ اس پر انہیں شک ہوا اور فوراً سوسائٹی کے اے او اے کو اطلاع دی۔ اے او اے کی ٹیم سیکورٹی عملے کے ساتھ فلیٹ پر پہنچی۔ دروازہ کافی دیر تک نہیں کھلا۔ کافی دیر بعد جب کسی طرح دروازہ کھولا گیا تو اندر کا منظر دیکھ کر سبھی حیران رہ گئے۔ خواتین انتہائی خوف کی کیفیت میں تھیں۔ای-سم کے نام پر دھوکہ دہی: موبائل سے پہلے نیٹورک غائب، پھر اکاؤنٹ سے 11 لاکھ روپے اڑا لیے ’سائبر فراڈ‘اس معاملے کا سب سے چونکا دینے والا پہلو یہ رہا کہ ایک ایم بی بی ایس کی طالبہ بھی سائبر فراڈ کرنے والوں کے کنٹرول میں تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ طالبہ پریکٹیکل کے لیے کالج جاتی تھی لیکن جعلساز اس کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ جب طالبہ کالج گئی تو اس کی ماں کو کار بٹھاکر فون پر ڈیجیٹل گرفتاری میں رکھا جاتا تھا۔ جعلسازوں نے تینوں خواتین کو اس حد تک خوفزدہ کردیا تھا کہ وہ پوری طرح ان کے اشاروں پر چلنے کے لیے مجبور ہوگئی تھیں۔سرمایہ کاری کے نام پر 12 کروڑ روپے کی ٹھگی، سائبر جعلسازوں نے بزرگ ڈاکٹر کو بنایا شکارمعاملے کی اطلاع ملتے ہی سیکٹر 113 تھانے کی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور تینوں خواتین سے بات چیت کی۔ پولیس نے انہیں سمجھایا کہ ڈیجیٹل گرفتاری جیسا کوئی قانونی طریقہ کار نہیں ہے اور یہ سائبر فراڈ کا ایک نیا طریقہ ہے۔ اب پولس پورے معاملے کی جانچ میں مصروف ہے۔