اسلام آباد میں امریکا سے مذاکرات کے بعد ایرانی اسپیکر قالیباف کا پہلا بیان سامنے آگیا

Wait 5 sec.

ایران(12 اپریل 2026): ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اسلام آباد مذاکرات کے خاتمے کے بعد اپنا پہلا باضابطہ بیان جاری کر دیا ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ پیغامات میں ایرانی اسپیکر پارلیمنٹ قالیباف نے کہا کہ انہوں نے مذاکرات کے آغاز سے قبل ہی اس بات پر زور دیا تھا کہ ہم نیک نیتی اور ارادہ رکھتے ہیں، لیکن گزشتہ دو جنگوں کے تجربات کی روشنی میں ہمیں مخالف فریق پر بالکل بھروسہ نہیں ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے حالیہ مذاکرات اور ملکی دفاع کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی وفد نے مستقبل پر مبنی ٹھوس تجاویز پیش کیں، تاہم اس مرحلے میں فریق مخالف ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔قالیباف نے کہا کہ امریکا ہماری منطق اور اصولوں کو بخوبی سمجھ چکا ہے، اب یہ فیصلہ اسے کرنا ہے کہ وہ ہمارا اعتماد حاصل کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران مذاکرات کو سفارتی اختیار اور ایرانی قوم کے حقوق کے تحفظ کا ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اپنے 40 روزہ قومی دفاع کی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کی کوششوں سے ایک لمحہ بھی دستبردار نہیں ہوگا۔قالیباف نے ایرانی عوام کی جرات کو سراہتے ہوئے کہا کہ 90 ملین نفوس پر مشتمل یہ متحد قوم رہبرِ معظم کی ہدایات پر لبیک کہتے ہوئے سڑکوں پر نکلی اور اپنے وفد کو دعاؤں کے ساتھ روانہ کیا۔قالیباف نے اپنے بیان میں پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں مذاکراتی عمل میں سہولت کاری فراہم کرنے پر اپنے دوست اور برادر ملک پاکستان کی کوششوں کا مشکور ہوں اور پاکستان کے عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔انہوں نے 21 گھنٹے طویل اور کٹھن مذاکرات میں شریک اپنے ساتھیوں کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔ انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام "زندہ باد اور پائندہ باد ہمارا عزیز ایران” کے نعرے پر کیا۔