معروف گلوکارہ آشا بھوسلے نے 92 سال کی عمر میں دنیا کو کہا الوداع، پیر کو ادا کی جائیں گی آخری رسومات

Wait 5 sec.

معروف گلوکارہ آشا بھوسلے اب ہمارے درمیان نہیں رہیں۔ 92 سال کی عمر میں انہوں نے اس دنیا کو الوداع کہہ دیا ہے۔ تقریباً 7 دہائیوں تک فلمی دنیا میں اپنی سریلی آواز کا جادو چلانے والی گلوکارہ کو ہفتہ (11 اپریل) کو طبیعت خراب ہونے کے باعث اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال کے ایمرجنسی میڈیکل سروسز یونٹ میں ان کا علاج چل رہا تھا۔ پوری دنیا میں موجود ان کے مداح دعائیں کر رہے تھے، مگر اتوار کے روز گلوکارہ نے دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ ان کے بیٹے آنند بھوسلے نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے موت کی خبر کی تصدیق کی۔#WATCH | Mumbai: Legendary singer Asha Bhosle's son, Anand Bhosle says, "My mother passed away today. People can pay their last respects to her at 11 am tomorrow at Casa Grande, Lower Parel, where she lived. Her last rites will be performed at 4 pm tomorrow at Shivaji Park." https://t.co/enJlEizboY pic.twitter.com/4WqTd9HYxg— ANI (@ANI) April 12, 2026واضح رہے کہ ہفتہ کو آشا بھوسلے کی طبیعت بگڑنے کی خبر آئی تھی۔ گلوکارہ کی پوتی زنائی بھوسلے نے ’انسٹاگرام‘ پوسٹ کے ذریعے ان کی صحت کے بارے میں بتاتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’شدید تھکن اور سینے میں انفیکشن کی وجہ سے انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ہماری پرائیویسی کا احترام کریں۔ ان کا علاج چل رہا ہے اور امید ہے کہ سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘۔ گلوکارہ کی طبیعت خراب ہونے کے بعد اسپتال کے باہر مداحوں کی بھیڑ جمع ہونے لگی تھی، ساتھ ہی آشا بھوسلے کی رہائش گاہ کے باہر بھی ان کے چاہنے والے اکٹھے ہونے لگے تھے۔ سب کو امید تھی کہ گلوکارہ صحت یاب ہو کر لوٹیں گی، مگر مداحوں کی یہ امید ٹوٹ گئی۔آشا بھوسلے کی آخری رسومات پیر (13 اپریل) کو ادا کی جائیں گی۔ گلوکارہ کے جسد خاکی کو صبح 11 بجے لوئر پرل میں واقع ان کی رہائش گاہ پر آخری دیدار کے لیے رکھا جائے گا۔ شام 4 بجے دادر کے شیواجی پارک میں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں ان کی بہن لتا منگیشکر کی بھی آخری رسومات ادا کی گئی تھیں۔قابل ذکر ہے کہ 8 ستمبر 1933 کو آشا بھوسلے کی پیدائش موسیقی سے وابستہ ایک خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد پنڈت دینا ناتھ منگیشکر ایک اداکار اور کلاسیکی گلوکار تھے۔ آشا بھوسلے معروف گلوکارہ لتا منگیشکر کی چھوٹی بہن تھیں۔ جب آشا بھوسلے محض 9 سال کی تھیں، تبھی ان کے والد کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ان کا خاندان پونے سے کولہاپور اور بعد میں ممبئی آ گیا۔ بڑی بہن لتا منگیشکر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ بھی موسیقی کی دنیا میں آگئیں۔ آشا بھوسلے نے پہلا گانا مراٹھی فلم ’ماجھا بال‘ (1943) میں ’چلا چلا ناؤ والا‘ گایا تھا، جبکہ بالی ووڈ میں ان کا پہلا گانا فلم ’چُنریا‘ (1948) میں ’ساون آیا‘ تھا۔ یہاں سے شروع ہونے والا موسیقی اور گیتوں کا سفر 5 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک جاری رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے آشا بھوسلے ہندوستانی موسیقی کی عظیم شخصیات میں شامل ہو گئیں۔