تہران (12 اپریل 2026): ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کامیاب مذاکرات اور کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکا کی جانب سے ’سب سے پہلے امریکا‘ کی پالیسی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔نائب صدر محمد رضا عارف نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ امریکا کے وفد کو مذاکرات میں امریکی پالیسی پر توجہ دینی چاہیے، اسرائیل کی پالیسی پر نہیں، انھوں نے لکھا اگر امریکی نمائندے سب سے پہلے امریکا کے مفاد پر توجہ دیں تو ایسا معاہدہ ممکن ہے جو باہمی طور پر فائدہ مند ہو۔انھوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات میں ایجنڈا ’سب سے پہلے اسرائیل‘ ہوا تو پھر کوئی ڈیل نہیں ہو سکے گی، اور اس کی دنیا کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی، کیوں کہ ایران اپنے دفاع کو پہلے سے کہیں زیادہ بھرپور طریقے سے جاری رکھے گا۔بری خبر ہے، ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہو سکا، امریکا واپس جا رہے ہیں، نائب صدر جے ڈی وینسواضح رہے کہ امریکا اور ایران اسلام آباد مذاکرات میں کسی ڈیل تک نہیں پہنچ سکے ہیں، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ایران نے ان کی شرائط قبول نہیں کیں، اس لیے واپس جا رہے ہیں، معاہدہ نہ ہونا امریکا کے لیے اتنی بری خبر نہیں جتنی ایران کے لیے ہے۔انھوں نے کہا ہم نے ایک حتمی اور بہترین آفر پیش کی ہے، دیکھتے ہیں ایران قبول کرتا ہے یا نہیں، ہم نے اپنی ریڈ لائن بتا دی ہے کہ ایران یقین دہانی کرائے ایٹمی ہتھیار نہیں بنائے گا۔