کیا مزدوروں کی کم از کم اجرت 20 ہزار ہو گئی؟ یوپی حکومت نے واضح کی سچائی

Wait 5 sec.

مغربی اتر پردیش کے سب سے بڑے صنعتی شہر نوئیڈا میں مزدوری بڑھانے کی مانگ کو لے کر پیر کو ہوئے پرتشدد ہنگامے کے بعد حکومت بیک فٹ پر آتی نطر آرہی ہے۔ مزدوروں کے سخت احتجاج کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت کی جانب سے دیر رات ہی کم ازکم مزدوری میں اضافہ کا اعلان کرنا پڑا تاہم اضافی مزدوری کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آنے کے بعد اب ریاستی حکومت کو صفائی دینا پڑی ہے۔اترپردیش حکومت کی جانب سے منگل کو صبح جاری ایک پریس نوٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر من گھڑنت اور جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مزدوروں کی کم از کم اجرت 20،000 روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے لیکن آجر تنظیموں کی طرف سے اس کی تعمیل نہیں کی جا رہی ہے۔نوئیڈا میں نجی کمپنیوں کے خلاف ملازمین کا شدید احتجاج، کم تنخواہ اور ریکارڈ میں ہیرا پھیری کے الزاماتاس پر یوپی حکومت کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے نئے لیبر قوانین (لیبر کوڈز) کے تحت قومی سطح پر کم از کم اجرت طے کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں مزدوروں کے لیے یکساں بیس لائن کم از کم اجرت کو یقینی بنانا ہے، جس سے تمام ریاستوں میں مزدوروں کے لیے منصفانہ اور معقول محنتانہ حاصل ہوسکے۔ریاستی حکومت کی جانب سے بھی آجر تنظیموں اور مزدور یونینوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع مشاورت کی جا رہی ہے۔ اتر پردیش حکومت نے حال ہی میں کم از کم اجرت کی شرحوں کا اعلان کیا ہے جن کے مطابق غیر ہنر مند مزدوروں کو ماہانہ اجرت 11,313.65 روپئے اور یومیہ اجرت 435.14 روپئے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح نیم ہنر مند مزدوروں کی ماہانہ اجرت 12,446 روپئے اور یومیہ اجرت 478.69 روپئے مقرر کی گئی ہے۔ ہنر مند مزدوروں کو فی الحال 13,940.37 اور یومیہ اجرت 536.16 روپئے دی جاتی ہے۔ نئے لیبر کوڈ کے دستورالعمل پر فی الحال کارروائی جاری ہے۔نوئیڈا میں ملازمین کا پُرتشدد احتجاج، اکھلیش نے بی جے پی حکومت کو بنایا نشانہحکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ وقت میں صنعتی دنیا عالمی اور معاشی چیلنجز کے دور سے سامنا ہے۔ صنعتوں کے لیے خام مال کی قیمتیں بڑھی ہیں اور برآمدات میں کمی آئی ہے۔ مزید برآں مزدوروں کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل اور مطالبات متعلقہ، اہم اور قابل غور ہیں۔ ایسی صورت حال میں دونوں فریقوں یعنی صنعت اور مزدوروں کے درمیان ہم آہنگی اور متوازن رویہ اپناتے ہوئے کسی فیصلے پر پہنچنا ضروری ہے۔اس دوران اتر پردیش حکومت نے اپنی صفائی میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی گمراہ کن معلومات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات پر بھروسہ کریں۔ حکومت نے ماحول کو خراب کرنے یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایات جاری کی ہیں۔