ایران امریکہ تنازعہ : آبنائے ہرمز کی بندش سے زیادہ نقصان کس کا ہے؟

Wait 5 sec.

ایران امریکہ تنازعہ کے باوجود خطے میں بہتری کی امید کسی حد تک موجود ہے اور یہ ضروری ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ وہیں سے بحال کیا جائے جہاں سے یہ تعطل کا شکار ہوا۔اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں سابق سکریٹری خارجہ جوہر سلیم نے ایران امریکہ تنازعہ کی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش کا سب سے زیادہ منفی اثر ایشیائی ممالک اور مشرق وسطیٰ کی تیل پیدا کرنے والی خلیجی ریاستوں پر پڑ رہا ہے کیونکہ یہ دنیا کی توانائی کی سب سے بڑی شہ رگ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش یا کشیدگی کے منفی اثرات سب سے زیادہ اثر ایشیائی (بشمول پاکستان، چین، انڈیا، جاپان) اور یورپی ممالک پر پڑ رہا ہے، جو خلیجی تیل اور گیس پر انحصار کرتے ہیں۔جوہر سلیم نے بتایا کہ امریکا کو براہِ راست توانائی بحران کا سامنا نہیں کیونکہ اس کے پاس اپنے وافر وسائل موجود ہیں، تاہم عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کا سیاسی اور معاشی دباؤ اسے بھی متاثر کرتا ہے۔ایران کے لیے سب سے بڑا چیلنج اس کی تیل برآمدات پر پابندیاں ہیں، جس کے باعث اسے شدید مالی نقصان کا سامنا ہے، اگرچہ کچھ مقدار میں تیل سمندری ذخائر کے ذریعے ہی فروخت کیا جارہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں سابق سکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ اس کشیدگی کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز نہیں بلکہ ایران کا جوہری پروگرام اور اس سے متعلق پابندیاں ہیں، امریکا ایران سے یورینیم افزودگی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس کیلیے ایران کسی طور آمادہ نہیں۔انہوں نے بتایا کہ 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ایران کو 3.67 فیصد تک یورینیم افزودگی کی اجازت تھی، تاہم موجودہ صورتحال میں امریکا اس حد کو صفر تک لانے پر زور دے رہا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا تنازع بن چکا ہے۔جوہر سلیم نے کہا کہ اگرچہ 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کا معاملہ بھی اہم ہے، تاہم اصل رکاوٹ افزودگی کی مکمل بندش کے مطالبے پر ہے جس پر دونوں جانب سخت مؤقف پایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ایرانی رہنماؤں کے ممکنہ دورۂ ماسکو، مسقط اور دیگر پڑوسی ممالک سے مشاورت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں جبکہ چین اور روس کی حمایت بھی ایران کے لیے اہم سمجھی جارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں سفارت کاری اور معاشی دباؤ ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں مذاکرات کی بحالی خطے کے امن کے لیے نہایت اہم ہوگی۔مزید پڑھیں : صدر ٹرمپ نے امریکی وفد کا دورہ پاکستان منسوخ کر دیاواضح رہے کہ کچھ دیر قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور اپنے داماد جیرڈ کشنر کا دورہ پاکستان منسوخ کردیا۔امریکی صدر نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ امریکی مذاکراتی ٹیم اب ایران سے بات چیت کیلیے پاکستان نہیں جائے گی، ایران سے تنازع پر تمام کارڈز ہمارے ہاتھ میں ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی وفد کو 18 گھنٹے کی طویل پرواز کر کے وہاں جا کر بیٹھنے کی ضرورت نہیں، ایرانی حکام جب چاہیں ہمیں براہ راست کال کر سکتے ہیں۔