تہران (22 اپریل 2026): اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا سے اشارے ملے ہیں کہ وہ ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔بی بی سی کے مطابق سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا کہ تہران کو کچھ اشارے ملے ہیں کہ امریکا اپنی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تیار ہے، اور اس کے بعد مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں ہوگا۔سعید ایروانی نے یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ میں کہی، ان کا کہنا تھا کہ ’’جب ایسا ہوگا تو مذاکرات کا اگلا دور اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔‘‘ ایرانی مندوب نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز پر امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک شرط ہے۔انھوں نے کہا اگر امریکا سیاسی حل چاہتا ہے تو وہ تیار ہیں، اور اگر وہ جنگ چاہتے ہیں تو ایران بھی تیار ہے، تاہم بات چیت کو موقع دیا جانا چاہیے، ہم پر امید ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے۔آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کی تو ایران سے ڈیل نہیں ہو پائے گی، ٹرمپواضح رہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان نازک جنگ بندی آج 22 اپریل کو ختم ہو رہی تھی، تاہم گزشتہ رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا، اور کہا کہ یہ انھوں نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کے کہنے پر کیا۔دو دہائیوں تک، امریکا نے ایران کے ساتھ ایک پائیدار جوہری معاہدہ کرنے کی کوشش کی۔ ہر ناکامی نے اسلامی جمہوریہ کو مزید مضبوط کیا۔ اس نے روس اور چین کے ساتھ تعلقات گہرے کیے، عراق سے لے کر بحیرۂ احمر تک اپنے اتحادی نیٹ ورک کو وسعت دی، اور میزائل و ڈرون ہتھیاروں کا ذخیرہ بنایا جب کہ اہم تنصیبات کو زمین کے اندر چھپا دیا، معائنے اور رسائی سے باہر۔جون 2025 میں ایران کی ایک خفیہ جوہری تنصیب، پک ایکس ماؤنٹین، کے بارے میں معلومات سامنے آئیں۔ یہ تنصیب پہاڑ کے اندر گہرائی میں بنائی گئی تھی، جس کا مقصد اسے بیرونی حملوں اور بین الاقوامی معائنے سے محفوظ رکھنا تھا۔ اس انکشاف سے پہلے تک یہ واضح نہیں تھا کہ ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کو کس حد تک آگے بڑھا چکا ہے، اس کے بعد امریکا اور اسرائیل میں پالیسی سازوں نے اپنا مؤقف سخت کر لیا۔امریکی وزارت خزانہامریکا کے وزیر خزانہ ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی، چند دنوں میں جزیرہ خارک کا ذخیرہ بھر جائے گا، کنویں بند کر دیے جائیں گے۔انھوں نے کہا سمندری تجارت پر پابندی براہ راست حکومت کی بنیادی آمدنی کو نشانہ بناتی ہے، ایران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ برقرار رکھا جائے گا، تہران کی فنڈز پیدا کرنے، منتقل کرنے اور بھیجنے کی صلاحیت کو منظم طریقے سے کم کیا جائے گا۔وزیر خزانہ کے مطابق کوئی بھی شخص یا جہاز جو ایران کو سہولت فراہم کرتا ہے اسے پابندیوں کا خطرہ ہے، ایرانی بدعنوان قیادت کی طرف سے چوری کیے گئے فنڈز کو منجمد کرتے رہیں گے۔