قومی راجدھانی دہلی میں شدید گرمی کے پیش نظر حکومت نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ گرمی کے دوران اسکولی بچوں کی حفاظت کے انتظامات سے متعلق اُٹھ رہے سوالوں کے درمیان دہلی حکومت کی جانب سے بچوں کی صحت کو ترجیح دی گئی ہے اور پہلی بار ایک خاص قدم اُٹھاتے ہوئے نئی گائیڈلائنس جاری کی گئی ہے۔ نئی گائیڈلائنس میں کچھ اہم فیصلے کئے گئے ہیں، اور ایک فیصلہ ہر اسکول میں ’واٹر بیل‘ گھنٹی بجائے جانے کا ہے۔دہلی میں ابھی سے درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس کے پارحکومت کی جانب سے جاری کی گئی تازہ ہدایت کے مطابق گرمی کے قہر کو دیکھتے ہوئے اب ہر 45 سے 60 منٹ میں اسکول کی گھنٹی بجے گی۔ یہ گھنٹی کلاس ختم ہونے یا تبدیل کرنے کے لیے نہیں بلکہ بچوں کو پانی پینے کی یاد دلانے کے لیے ہوگی۔ اس سلسلے میں حکومت نے صاف کہا ہے کہ شدید گرمی کے درمیان پڑھائی کے دباؤ میں بچے پانی پینا نہ بھولیں، اس کے لیے اسکولوں کو لازمی طور سے اس طرح کے انتظامات نافذ کرنے ہوں گے۔نئے اقدامات کے ذریعہ حکومت کی جانب سے بچوں کی حفاظت کے پیش نظر پڑھائی کے ساتھ ساتھ صحت پر بھی خاص زور دیا جا رہا ہے۔ اسکول میں پڑھائی کے دوران بچوں کی طبیعت خراب ہونے سے بچانے کے لیے حکومت کی جانب سے تمام ضروری کوششیں کی جا رہی ہیں۔ دہلی میں گرم لہر (ہیٹ ویو) کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا ہے تاکہ بچوں کو ’ڈی ہائیڈریشن‘ اور لو سے بچایا جا سکے۔اسکولی بچوں کے لئے دہلی حکومت کا ’لیڈ پورٹل‘ لانچواضح ہو کہ دہلی میں گزشتہ کچھ دنوں سے موسم میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ راجدھانی میں لگاتار درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے گرمی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ شدید گرمی کی وجہ سے عام لوگوں کا بُرا حال ہے۔ ایسے حالات میں پسینہ اور تیز دھوپ کی وجہ سے بچے اور بزرگ بیمار ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے محتاط رہنے کی بھی صلاح دی جا رہی ہے۔بتا دیں کہ اس وقت راجدھانی میں عام شہریوں سمیت اسکولی بچوں کو درجہ حرارت لگاتار ستا رہا ہے۔ دہلی میں بدھ کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس کے قریب پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کم ازکم درجہ حرارت 27 ڈگری سیلسیس تک ہوسکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت میں بھاری اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ اس سے گرمی میں مزید شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال سے عام لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔