اداروں نے حملہ آور کول ٹامس ایلن سے متعلق تفتیش مزید تیز کر دی

Wait 5 sec.

واشنگٹن (27 اپریل 2026): وائٹ ہاؤس نمائندوں کے ڈنر میں فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اداروں نے حملہ آور کول ٹامس ایلن سے متعلق تفتیش مزید تیز کر دی۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، اے ٹی ایف ریکارڈز کے مطابق ملزم نے اکتوبر 2023 میں کیلیفورنیا سے اسلحہ خریدا تھا، اور اس نے واقعے سے چند منٹ قبل خاندان کو ایک تحریری پیغام بھی بھیجا۔حکام کے مطابق ایف بی آئی نے ملزم کے علاقے میں گھر گھر جا کر تلاشی کا عمل شروع کر دیا ہے، ادھر کانگریس کمیٹی نے سیکرٹ سروس سے واقعے پر بریفنگ کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔گرفتار کیلیفورنیا کے استاد اور انجینئر پر الزام ہے کہ اس نے وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے ڈنر کے باہر فائرنگ کی، اور وہ سمجھتا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں کو نشانہ بنانا اس کی ذمہ داری ہے۔ یہ بات اس نوٹ سے معلوم ہوئی جو اس نے ہفتے کے روز حملے سے تقریباً 10 منٹ پہلے اپنے خاندان کے افراد کو بھیجا تھا۔نگران اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے اتوار کے روز ’میٹ دی پریس‘ پروگرام میں کہا کہ حکام کے مطابق ’’حملہ آور نے لاس اینجلس سے شکاگو تک ٹرین کے ذریعے سفر کیا، پھر شکاگو سے واشنگٹن ڈی سی پہنچا، جہاں اس نے اسی ہوٹل میں چیک اِن کیا جہاں کوریسپانڈنٹس ڈنر منعقد ہوا تھا، اور یہ سب پچھلے ایک یا دو دن میں ہوا۔‘‘میں گھبرایا نہیں زندگی کو سمجھتا ہوں، ہم پاگل دنیا میں رہ رہے ہیں: ٹرمپ نے واقعے کی تفصیل بتا دینوٹ میں ایلن نے صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کی، اس نے ہوٹل کی کمزور سیکیورٹی کا ذکر کیا اور کہا کہ اسے اس سے زیادہ سخت حفاظتی انتظامات کی توقع تھی۔ اس نے کہا ’’انتظامیہ کے اہلکار (مسٹر پٹیل شامل نہیں): یہ سب ہدف ہیں، جنھیں اعلیٰ عہدے سے لے کر نچلے عہدے تک ترجیح دی جائے گی۔‘‘ حملہ آور کا اشارہ غالباً ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کی طرف تھا۔اس نے مزید لکھا ’’جب میں سوچتا ہوں کہ اس انتظامیہ نے کیا کچھ کیا ہے تو مجھے شدید غصہ آتا ہے۔‘‘ ایک سینئر انتظامی اہلکار کے مطابق کول ایلِن کے بھائی نے یہ نوٹ ملنے کے بعد کنیکٹیکٹ میں نیو لندن پولیس ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کیا۔ایلن کی بہن نے فائرنگ کے بعد سیکرٹ سروس اور مونٹگمری کاؤنٹی پولیس کو بتایا کہ اس کا بھائی انتہا پسندانہ بیانات دینے کا رجحان رکھتا تھا، اور اس نے ایک ایسے منصوبے کا بھی ذکر کیا تھا جس کے ذریعے وہ موجودہ دنیا کے مسائل کو ’’ٹھیک کرنے کے لیے کچھ‘‘ کرنا چاہتا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ کول ایلن کو کوئی گولی نہیں لگی ہے، تاہم اسے مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، توقع ہے کہ آج پیر کے روز اس پر وفاقی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ حملے کے فوراً بعد ایک پریس بریفنگ میں ٹرمپ نے مبینہ حملہ آور کو ’’پاگل شخص‘‘ اور ’’تنہا بھیڑیا‘‘ قرار دیا۔ پبلک ریکارڈز اور انٹرویوز سے معلوم ہوتا ہے کہ ایلن ایک تربیت یافتہ انجینئر تھا جس نے کبھی ناسا میں انٹرن شپ بھی کی تھی۔ وہ کیلیفورنیا کی ایک معروف یونیورسٹی میں نرف کلب اور کرسچن فیلوشپ کا حصہ بھی رہا، اور بعد میں اس نے ویڈیو گیمز ڈویلپ کرنا شروع کیے اور پارٹ ٹائم استاد کے طور پر بھی کام کیا۔