بیجنگ : امریکی پابندیوں کے بعد چینی آئل کمپنی کے شیئرز میں اچانک 10 فیصد کمی کے بعد سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی۔تفصیلات کے مطابق امریکا کی جانب سے پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد چین کی بڑی نجی آئل ریفائنری "ہینگلی پیٹروکیمیکل” کے حصص میں اچانک 10 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے عالمی سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔عالمی خبر رساں اداروں نے بتایا کہ امریکی محکمہ خزانہ نے گزشتہ ہفتے ہینگلی پیٹروکیمیکل پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔امریکی وزارت خزانہ کا الزام ہے کہ ریفائنری ایران سے خام تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کے بڑےخریداروں میں سے ایک ہے، ہینگلی پیٹروکیمیکل کمپنی ایران سے اربوں ڈالر مالیت کا ایرانی تیل خریدا ہے۔ہینگلی پیٹروکیمیکل نے امریکی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ایران کے ساتھ کسی قسم کا کاروباری تعلق نہیں ہے۔دوسری جانب چین کی حکومت نے بھی امریکی اقدامات کو “غیر قانونی” یکطرفہ پابندیاں قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے تجارت اور ٹیکنالوجی کے معاملات کو سیاسی رنگ دینا بند کرے اور واشنگٹن چینی کمپنیوں کے خلاف پابندیوں کو بطور ہتھیار استعمال نہ کرے۔۔الجزیرہ ٹی وی کے مطابق رائٹرز کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد آج صبح ٹریڈنگ کے دوران کمپنی کے حصص میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ تناؤ برقرار رہا تو اس کے اثرات عالمی تیل کی مارکیٹ اور سپلائی چین پر بھی پڑ سکتے ہیں۔