موجودہ وقت میں جاری گلوبل وارمنگ کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلی کا اثر زمین پر صاف صاف نظر آرہا ہے۔ اس سے پہاڑی علاقے بھی مستثنیٰ نہیں ہیں۔ 2 ارب لوگوں کو کھانا اور پانی دینے والے ہندوکش ہمالیہ سے لے کر سمندر کی گہرائی تک زمین گرم ہو رہی ہے۔ دنیا کے تمام پہاڑ زمین کی سطح کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ پہاڑ دنیا کی مجموعی آبادی کے 10 فیصد لوگوں کو گھر اور 50 فیصد لوگوں کو زراعتی زمین کی سینچائی کے لیے پانی، صنعتی استعمال اور گھریلو استعمال کے لیے پانی فراہم کرتے ہیں۔پہاڑی علاقے جینیاتی اور حیاتیاتی تنوع کے ذخائر ہیں۔ پہاڑی علاقے دیگر ضروری وسائل جیسے لکڑی، معدنیات، پن بجلی اور تفریحی سیاحتی مقامات وغیرہ فراہم کراتے ہیں مگر گزشتہ کچھ عرصے میں موسمیاتی تبدیلی کی بڑھتی ہوئی آبادی، جنگلا ت کی کٹائی، قدرتی وسائل کا بہت زیادہ استعمال اور غیر سائنسی کاشتکاری نظام کی وجہ سے پہاڑی علاقوں کو موسم بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گلوبلائزیشن کے بعد قدرتی وسائل کے استعمال سے جو صنعتی ترقی ہوئی ہے، اس سے کاربن کے اخراج نے ان کے پگھلنے کی تیزی میں اضافہ کیا ہے۔ برف کے تودے ایک صدی پہلے بھی پگھلتے تھے لیکن برف گرنے کے بعد ان کا دائرہ لگاتار بڑھتا رہتا تھا۔ اس لیے گنگا اور یمنا جیسی ندیوں کے بہاؤ میں تسلسل برقرار رہا لیکن 1950 کی دہائی سے ہی ان کا دائرہ 3 سے 4 میٹر فی گھنٹہ کم ہونا شروع ہو گیا تھا۔ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے جانور اپنی صورت تبدیل کر لیتے ہیں: تحقیقحالیہ سائنسی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ہمالیہ میں گلیشئرز کے پیچھے ہٹنے کی اوسط شرح 30-60 میٹر فی دہائی ہے جو ایک تشویش کا موضوع ہے۔ گلوبل وارمنگ اور آبی تبدیلی کی وجہ سے اتراکھنڈ کے ضلع اترکاشی میں مشہور گنگوتری گلیشئر، جو گنگا کا اہم ذریعہ بھی ہے، تیزی سے ہر سال 28-30 میٹر کی شرح سے پیچھے کی طرف گھٹ رہا ہے۔ 1935 سے 2022 کے درمیان یہ تقریباً 1700 میٹر پیچھے ہٹ چکا ہے۔ گزشتہ 2 دہائیوں میں پگھلنے کی شرح بھی دو گنی ہو گئی ہے۔یہ ہمالیہ کے ماحولیاتی نظام اور شمالی ہندوستان کے پانی کی حفاظت کے لیے ایک سنگین بحران ہے۔ دہرادون کے واڈیا انسٹی ٹیوٹ آف ہمالیائی ارضیات کے مختلف سروے اور رپورٹس کے مطابق گلوبل وارمنگ کے سبب ہمالیائی گلیشئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ سکم اور لداخ (زانسکار) کے گلیشئروں پر کئے گئے سروے میں پایا گیا ہے کہ گرمی کے موسم میں درجہ حرارت میں اضافہ اور کم برفباری اس کی اہم وجہ ہے۔ہندوکش ہمالیہ علاقے میں آباد ملک ہندوستان، پاکستان، نیپال اور بھوٹان جہاں دنیا کی کافی آبادی رہتی ہے، یہاں ان اثرات کا زیادہ خطرہ برقرار ہے۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے ہندو کش ہمالیہ علاقے کے گلیشئروں کے تیزی سے پگھلنے کی وجہ سے صدی کے آخر تک 75 فیصد برف ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ ہندوستانی ہمالیہ میں کل 9975 گلیشئرہیں۔ ان میں 900 900 اتراکھنڈ میں آتے ہیں۔ ان گلیشئروں سے ہی زیادہ تر ندیاں نکلی ہیں جو ملک کی 40 فیصد آبادی کو پینے، آبپاشی اور ذریعہ معاش کے کئی وسائل فراہم کراتی ہیں لیکن گلیشئرز کے پگھلنے اور ٹوٹنے کا یہی سلسلہ برقرار رہا تو ملک کے پاس ایسا کوئی متبادل نہیں ہے کہ وہ ان ندیوں سے ذریعہ معاش حاصل کر رہی 50 کروڑ آبادی کو روزگار کے متبادل وسائل فراہم کر سکے۔’ماحولیاتی تبدیلی، عالمی وباؤں سے زیادہ ہلاکت خیز ہے‘پڑوسی ملک نیپال جو ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات کے معاملے میں دنیا میں چوتھا سب سے حساس ملک مانا جاتا ہے، یہاں کے پہاڑی علاقوں پر ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات مرتب ہورہے ہیں جس میں تیزی سے پگھلتے گلیشئر،غیر مستقل مانسون اور سیلاب؍ تودے گرنے جیسی قدرتی آفات میں اضافہ شامل ہے۔ ہمالیائی ایکو سسٹم میں بدلاؤ کی وجہ سے زرعی پیداوار کم ہورہی ہے۔ پانی کے ذرائع خشک ہورہے ہیں، حیاتیاتی تنوع کو نقصان ہورہا ہے جس سے مقامی آبادی کی زندگانی اور خوراک تحفظ خطرے میں ہے۔ نیپال ماحولیاتی تبدیلی سے نپٹنے کے لئے گزشتہ دو دہائیوں سے حسب ضرورت اور کم کرنے کی کوشش بھی کررہا ہے۔انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ (آئی سی آئی ایم او ڈی) مربوط پہاڑی ترقی کے لیے بین الاقوامی سینٹر 8 رکنی ممالک (افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، چین، ہندوستان، میانمار، نیپال، پاکستان) کے تعاون سے پہاڑی زندگی اورماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرتا ہے۔ آئی سی آئی ایم او ڈی کی وارننگ کے مطابق اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیس سے نیچے نہیں روکا گیا تو اس صدی کے آخر تک ہمالیہ کے 80 فیصد گلیشئر ختم ہوسکتے ہیں جس کا براہ راست اثر ماحولیاتی نظام اور انسانی زندگی پر پڑے گا کیونکہ ہندوکش ہمالیہ علاقہ اہم پہاڑی سلسلہ ہے جو ایشیا کے 80 ممالک میں پھیلی ہوئی ہے، اسے تیسرا قطب بھی کہا جاتا ہے۔ آرکٹک اور انٹارکٹیکا کے باہر یہاں برف کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔