امریکی بحریہ کے وزیر جان سی فیلن کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

Wait 5 sec.

واشنگٹن (23 اپریل 2026): ایران کے ساتھ جاری جنگ کے درمیان وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کو امریکی بحریہ کے وزیر جان سی فیلن کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔امریکی محکمہ جنگ نے جان سی فیلن کے استعفے کی تصدیق کر دی، نیویارک پوسٹ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جان سی فیلن کو فوجی جہازوں کے گولڈن فلیٹ کی تعمیر کے ٹرمپ کے منصوبے پر اختلاف کی وجہ سے ہٹایا گیا۔انتظامیہ صدر کے ایجنڈے کی وجہ سے جہاز سازی کے پروگرام کو تیز کرنا چاہتی تھی اور جان سی فیلن ان اہداف کو پورا کرنے کے قابل نہیں تھے، جس پر انھیں پسند نہیں کیا جا رہا تھا۔ انڈر سیکریٹری ہنگ کاؤ کو بحریہ کا قائم مقام وزیر مقرر کر دیا گیا ہے، اور انھوں نے اپنے عہدے کا چارج بھی سنبھال لیا ہے۔سی این این کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ کشیدگی کے پس منظر میں کیا گیا ہے، جو جہاز سازی میں اصلاحات کے نفاذ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ فیلن کے قریبی تعلق پر اختلافات کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔پینٹاگون کے ترجمان سین پارنل نے بدھ کی شام کہا کہ فیلن ’’فوری طور پر‘‘ اپنے عہدے سے سبک دوش ہو جائیں گے۔ یہ ایک غیر متوقع اعلان تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکی بحریہ ایران جنگ کے دوران جنگ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رہی ہے۔ایران کب تک آبنائے ہرمز بند رکھ سکتا ہے؟ پینٹاگون کی خفیہ بریفنگ کی تفصیلات سامنے آ گئیںذرائع کے مطابق، اس سے قبل ہیگستھ نے ٹرمپ سے بات کی تھی اور فیلن کو بتایا تھا کہ وہ یا تو استعفیٰ دیں یا برطرفی کا سامنا کریں۔ ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے سی این این کو بتایا ’’صدر ٹرمپ اور سیکریٹری ہیگستھ اس بات پر متفق تھے کہ بحریہ میں نئی قیادت کی ضرورت ہے۔‘‘سین پارنل نے ایک بیان میں کہا ’’وزیرِ جنگ اور نائب وزیرِ جنگ کی جانب سے ہم سیکریٹری فیلن کی محکمہ اور امریکی بحریہ کے لیے خدمات پر شکر گزار ہیں۔ ہم ان کے مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔‘‘متعدد ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ فیلن اور ہیگستھ کے درمیان کئی ماہ سے کشیدگی جاری تھی۔ ہیگستھ کا خیال تھا کہ فیلن جہاز سازی کی اصلاحات کو نافذ کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جب کہ وہ فیلن کے ٹرمپ کے ساتھ براہِ راست رابطے سے بھی ناخوش تھے، جسے وہ اپنے اختیارات کو نظرانداز کرنے کی کوشش سمجھتے تھے۔ نائب وزیرِ دفاع اسٹیو فائنبرگ بھی جہاز سازی اور بحریہ کی خریداری کے بڑے معاملات اپنے کنٹرول میں لینا چاہتے تھے، جو عموماً فیلن کی ذمہ داری ہوتی ہے۔