گزشتہ سال ہجرت کے دوران 8 ہزار افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے، اقوام متحدہ کا انکشاف

Wait 5 sec.

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ گزشتہ سال اپنا ملک چھوڑ کر دیگر ممالک جانے کی کوشش میں تقریباً 8 ہزار افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے، جس میں یورپ جانے والے سمندری راستوں میں سب سے زیادہ اموت ہوئیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آئی او ایم کی طرف سے جاری تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بہت سے متاثرین سمندر میں ڈوب جانے والے جہازوں کے ملبے میں لاپتہ ہو گئے۔رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی ہمدردی اور رسپانس ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ماریہ موئیتا نے کہا ہے کہ یہ اعداد و شمار ان سانحات کو روکنے میں ہماری اجتماعی ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2025 میں 7,904 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے جو 2024 میں ہلاک یا لاپتہ ہونے والے 9,197 کی ریکارڈ تعداد کے مقابلہ میں کچھ کم ہے تاہم 2025 کے اعداد وشمار میں 1500 مشتبہ کیسز کو تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے شامل نہیں کیا گیا۔2014 سے اب تک ہجرت کید وران کل اموات 82,000 سے تجاوز کر گئی ہیں، جس سے ان کے خاندانوں کے تقریباً 340,000 افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ہر 10 میں سے چار سے زیادہ اموات اور لاپتہ ہونے کے واقعات یورپ جانے والے سمندری راستوں پر ہوتے ہیں۔ یورپ جانے والوں میں گزشتہ سال سب سے زیادہ تعداد بنگلہ دیشی شہریوں کی رہی۔مغربی افریقی راستے میں شمال کی طرف ہجرت کے دوران 1200 اموات ہوئیں، جب کہ ایشیا ئی ممالک سے ہجرت کے دوران سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ ہجرت کے دوران مرنے والوں میں سینکڑوں روہنگیا مہاجرین بھی شامل ہیں جو میانمار میں تشدد سے بچنے کی خاطر ہجرت کے دوران موت کے منہ میں چلے گئے۔آئی او ایم کے ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا ہے کہ جنگیں، موسمیاتی دباؤ اور پالیسی میں تبدیلیوں کے باعث ہجرت کے راستے بدل رہے ہیں، لیکن خطرات اب بھی بہت حقیقی ہیں۔اقوام متحدہ کا آبنائے ہُرمز کی بندش سے بڑے عالمی غذائی بحران کا انتباہانہوں نے کہا کہ ان راستوں کو سمجھنے اور مذکورہ عوامل کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ڈیٹا تک رسائی اہم ہے جو خطرات کو کم کر سکتی ہے، جانیں بچا سکتی ہے اور نقل مکانی کے محفوظ راستوں کو فروغ دے سکتی ہے۔