23 اور 24 اپریل 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والا ’برکس پلس اجلاس‘ ختم ہو چکا ہے، جسے انتہائی مایوس کن قرار دیا جا رہا ہے۔ برکس و دیگر ممالک کے نائب وزرائے خارجہ اور خصوصی نمائندوں کا یہ اجلاس مشترکہ اعلامیہ کے بغیر ہی ختم ہو گیا، جس پر تلخ سیاسی رد عمل سامنے آئے ہیں۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے اس اجلاس کی ناکامی کے لیے حکومت ہند کے مؤقف کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔The BRICS+ meeting of Deputy Foreign Ministers and Special Envoys held in New Delhi on April 23-24 2026 ended without a joint statement. Iran and UAE are both part of the 11-member BRICS+ and their divergent positions on the war in West Asia are only to be expected. But what is…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) April 27, 2026جئے رام رمیش نے اپنے آفیشیل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ برکس+ کے 11 رکنی گروپ میں شامل ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے حوالے سے اختلافات متوقع تھے، لیکن اصل حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ مشترکہ اعلامیہ نہ آنے کی ایک بڑی وجہ ہندوستان کی جانب سے اسرائیل اور فلسطین سے متعلق بیان کی زبان کو نرم کرنے پر اصرار تھا، جسے دیگر رکن ممالک نے قبول نہیں کیا۔ کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ روس، چین، برازیل، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات اور ایران جیسے ممالک نے ہندوستان کے اس مؤقف کی مخالفت کی، جس کے باعث اتفاق رائے ممکن نہ ہو سکا۔ کانگریس رہنما کے مطابق یہ صورتحال ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر سوالات کھڑے کرتی ہے۔جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ہندوستان دنیا کا واحد بڑا ملک ہے جو اسرائیل کے ساتھ اس قدر مضبوط یکجہتی دکھا رہا ہے، جبکہ ان کے مطابق اسرائیل غزہ میں نسل کشی، جنوبی لبنان پر شدید بمباری اور مغربی کنارے میں لاکھوں فلسطینیوں کی بے دخلی و جبری نقل مکانی جیسے اقدامات میں ملوث ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان قریبی تعلقات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں لیڈران ایک دوسرے کے ’ہم مزاج‘ دکھائی دیتے ہیں، اور اسرائیل اب مبینہ طور پر ایک بڑے اقتصادی نیٹورک کا بھی حصہ بنتا جا رہا ہے۔پنچایتی راج نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت، لوک سبھا نشستوں میں اضافہ حل نہیں: جئے رام رمیشواضح رہے کہ برکس+ اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ کا نہ آنا سفارتی سطح پر ایک غیر معمولی صورتحال سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ ایسے اجلاس عموماً متفقہ مؤقف کے ساتھ اختتام پذیر ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف برکس+ کے اندرونی اختلافات کو ظاہر کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر مغربی ایشیا کے مسئلے پر بڑھتی ہوئی تقسیم کی بھی عکاسی کرتی ہے۔