لداخ میں پانچ نئے اضلاع کا اعلان، کل تعداد سات ہوئی؛ انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی

Wait 5 sec.

سری نگر: لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) وی کے سکسینہ نے پیر کے روز مرکز کے زیر انتظام خطے میں پانچ نئے اضلاع کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد لداخ میں اضلاع کی مجموعی تعداد 7 سے بڑھ کر سات ہو گئی ہے۔ اس اعلان کو انتظامی ڈھانچے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سرکاری حکام کے مطابق نئے بنائے گئے اضلاع میں نُبرا، شام، چانگ تھانگ، زنسکار اور دراس شامل ہیں۔ اس سے قبل لداخ میں صرف دو اضلاع، لیہ اور کرگل، موجود تھے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد انتظامی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا، دور افتادہ اور سرحدی علاقوں میں ترقی کو فروغ دینا اور مقامی آبادی کی طویل عرصے سے جاری مانگوں کو پورا کرنا ہے۔نُبرا کو اس کے جغرافیائی محل وقوع اور بلند پہاڑی علاقوں کی وجہ سے خاص اہمیت حاصل ہے، جہاں سیاحت کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ شام ضلع میں مقامی سطح پر حکمرانی کو مضبوط بنانے پر زور دیا جائے گا، جبکہ چانگ تھانگ میں قدیم قبائلی ثقافت کے تحفظ اور سرحدی بنیادی ڈھانچے کی بہتری کو ترجیح دی جائے گی۔ زنسکار میں سڑک رابطوں کو بہتر بنانے اور سیاحت کے فروغ پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جبکہ دراس میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور فوجی ضروریات کو تقویت دینے پر کام کیا جائے گا، کیونکہ یہ علاقہ اپنی اسٹریٹجک اہمیت کے لیے جانا جاتا ہے۔حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف عوام کو سرکاری خدمات تک رسائی آسان ہوگی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور مجموعی طور پر ترقیاتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ یہ فیصلہ دراصل اگست 2024 میں مرکزی وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد لیا گیا تھا، جسے اپریل 2026 میں باضابطہ طور پر نافذ کیا گیا۔دوسری جانب، لداخ کے نمائندہ ادارے، لیہ اپیکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس، 2021 سے خطے کو ریاست کا درجہ دینے، چھٹی فہرست میں شامل کرنے، ملازمتوں کے تحفظ اور پبلک سروس کمیشن کے قیام جیسے مطالبات کو لے کر مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ ان تحریکوں کی قیادت سونم وانگچک اور چیرنگ دورجے جیسے کارکنان کر رہے ہیں، جو مرکزی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں بھی سرگرم رہے ہیں۔گزشتہ برس ستمبر 2025 میں لداخ میں حالات اس وقت کشیدہ ہو گئے تھے جب مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ لیہ میں پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد کی موت واقع ہوئی، جس کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کیا گیا اور متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس دوران سرکاری دفاتر اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔اسی تناظر میں حالیہ انتظامی تبدیلیوں کو ایک ایسے اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد خطے میں استحکام، ترقی اور عوامی اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ نئے اضلاع کے قیام سے مقامی سطح پر مسائل کا حل تیز ہوگا اور لداخ کے مختلف علاقوں کی مخصوص ضروریات کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکے گا۔