نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آسارام ٹرسٹ کو ایک اہم عبوری راحت فراہم کرتے ہوئے گجرات میں اس کی زمین واپس لینے کے معاملے میں ریاستی حکومت کی کارروائی پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نے واضح ہدایت دی کہ احمد آباد میں واقع آشرم کی زمین اور اس سے متعلق جائیدادوں کے خلاف کسی بھی قسم کی سخت کارروائی نہ کی جائے اور موجودہ صورت حال کو برقرار رکھا جائے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 5 مئی کو مقرر کی گئی ہے۔آسارام ٹرسٹ نے تقریباً 45 ہزار مربع میٹر زمین واپس لینے کے ریاستی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔ یہ زمین موٹیرا علاقے میں واقع ہے، جو نریندر مودی اسٹیڈیم کے قریب ہے اور جہاں سردار پٹیل اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کا منصوبہ بتایا جا رہا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے عبوری حکم میں کہا کہ جب تک اگلی سماعت نہیں ہو جاتی، اس وقت تک گجرات ہائی کورٹ کے 17 اپریل کے فیصلے پر بھی روک برقرار رہے گی اور زمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔اس سے قبل زمین خالی کرانے کے لیے جاری نوٹس کو آسارام ٹرسٹ نے گجرات ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، تاہم سنگل جج نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ بعد ازاں ڈویژن بنچ نے بھی ٹرسٹ کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ کے زمین واپس لینے کے حکم کو برقرار رکھا تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ٹرسٹ نے زمین کے الاٹمنٹ کی شرائط کی خلاف ورزی کی اور سابرمتی ندی کے علاقے میں بھی غیر قانونی قبضہ کیا گیا، جسے کسی بھی صورت میں باقاعدہ نہیں بنایا جا سکتا۔ہائی کورٹ نے ٹرسٹ کو سپریم کورٹ جانے کے لیے مہلت دینے سے بھی انکار کر دیا تھا، کیونکہ عدالت نے شرط رکھی تھی کہ اگر ٹرسٹ زمین خالی کرنے کا حلف نامہ جمع کرائے تو ہی اسے راحت دی جا سکتی ہے، لیکن ٹرسٹ نے ایسا نہیں کیا۔سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بینچ نے نوٹس کی بنیاد پر اٹھائے گئے اقدامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے جاری وجہ بتاؤ نوٹس میں ضروری تفصیلات کی کمی نظر آتی ہے۔ عدالت نے اس بات پر بھی حیرت ظاہر کی کہ جب پہلے کچھ زمین کو باقاعدہ کیا جا چکا تھا تو اب اچانک اسے غیر قانونی قرار دے کر واپس لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ریاستی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ 1980 میں ٹرسٹ کو محدود رقبہ الاٹ کیا گیا تھا، جس کے بعد اضافی زمین پر قبضہ کیا گیا اور شرائط کی خلاف ورزی ہوئی۔ دوسری جانب ٹرسٹ کے وکیل مکول روہتگی نے کارروائی کو غیر قانونی اور جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرسٹ کے پاس پرانے اور درست دستاویزات موجود ہیں اور اسی نوعیت کے دیگر معاملات میں مختلف اداروں کو رعایت دی گئی ہے۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے فی الحال گجرات حکومت کو کوئی سخت قدم نہ اٹھانے کا حکم دیتے ہوئے موجودہ حالت برقرار رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ اگلی سماعت میں اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کا مزید جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد آئندہ کی کارروائی طے ہوگی۔