سابق ایرانی ولی عہد رضا پہلوی پر سرخ رنگ پھینک دیا گیا

Wait 5 sec.

برلن(23 اپریل 2026): بیلجیئم میں مقیم ایرانی شہریوں نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کی حمایت کرنے والے سابق ایرانی ولی عہد رضا پہلوی کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ایران کے آخری شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی پر جمعرات کو جرمنی کے دورے کے دوران ایک کارکن نے سرخ رنگ پھینک دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک سماجی کارکن نے ایران جنگ کے حوالے سے ان کے مؤقف پر احتجاجاً انہیں نشانہ بنایا۔منظرِ عام پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب رضا پہلوی وسطی برلن میں فیڈرل پریس کانفرنس سے فارغ ہو کر سیکیورٹی کے حصار میں اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے، تو ایک شخص نے ان کے قریب آ کر سرخ مائع پھینک دیا، جو ان کی گردن کے پچھلے حصے اور کندھوں پر گرا۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا، جس کے بعد رضا پہلوی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہو گئے۔اس موقع پر مظاہرین نے رضا پہلوی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور انہیں ایرانی عوام کا ‘غدار’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر غیر ملکی حملوں کی حمایت کرنے والے کبھی بھی عوام کے نمائندے نہیں ہو سکتے۔اس واقعے سے قبل پریس کانفرنس کے دوران رضا پہلوی نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔ انہوں نے ان فوجی کارروائیوں کو موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے ایک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مداخلت قرار دیا۔انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا  تھاکہ حکومت کے بنیادی ڈھانچے اور اس کے جبر کے عناصر کو نشانہ بنانا ایک ایسی چیز تھی جس کا ایرانی عوام نے خود مطالبہ کیا تھا۔