لبنان: مسیحی مذہبی مجسمے کی بے حرمتی پر 2 اسرائیلی فوجیوں کو صرد 30 دن قید کی سزا

Wait 5 sec.

تل ابیب(23 اپریل 2026): جنوبی لبنان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بے حرمتی اور توہین کرنے کے جرم میں دو اسرائیلی فوجیوں کو محض 30 دن قید کی سزا سنائی گئی ہے۔اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کی انکوائری کے مطابق یہ واقعہ جنوبی لبنان کے مسیحی اکثریتی گاؤں ‘دیبل’ میں پیش آیا۔ تحقیقات میں ثابت ہوا کہ ایک اسرائیلی فوجی نے مسیحی مذہبی مجسمے کو نقصان پہنچایا، جبکہ اس کے ساتھی نے اس شرمناک عمل کی تصویر کھینچی۔عدالتی فیصلے کے تحت دونوں فوجیوں کو ایک ماہ قید کی سزا دی گئی ہے اور انہیں جنگی ڈیوٹی سے بھی معزول کر دیا گیا ہے۔ انکوائری میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ واقعے کے وقت وہاں 6 مزید فوجی بھی موجود تھے، جنہوں نے نہ تو اس فعل کو روکنے کی کوشش کی اور نہ ہی اپنے اعلیٰ حکام کو اس کی اطلاع دی۔مذہبی علامات کی توہین کے اس واقعے پر عوامی اور سماجی سطح پر سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ کئی حلقوں کی جانب سے دی جانے والی سزا کو جرم کی نوعیت کے مقابلے میں انتہائی کم قرار دیا گیا ہے۔لبنان میں اسرائیلی فوجی نے ہتھوڑے سے مجسمہ مسیح توڑ دیا