مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں آج بڑی تعداد میں گھروں سے نکل کر ووٹرس حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ گجرات اور مہاراشٹر کی 3 اسمبلی سیٹوں پر بھی ضمنی انتخاب ہو رہے ہیں۔ اس دوران بنگال میں کچھ مقامات پر تشدد اور ای وی ایم میں تکنیکی خرابی کی خبر نے الیکشن کمیشن کی تیاریوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ایک طرف ناؤدا میں بم دھماکہ کی خبر سامنے آ رہی ہے، اور دوسری طرف اے یو جے پی اور ٹی ایم سی کارکنان کے درمیان تصادم کے بعد علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔ اس معاملہ میں الیکشن کمیشن نے ضلع انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ علاوہ ازیں مالدہ میں ترنمول کانگریس پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس نے سی پی ایم حامیوں کو یرغمال بنایا ہے۔ حالانکہ ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج کمار اگروال نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حق رائے دہی کا عمل پُرامن طریقے سے جاری ہے۔مغربی بنگال میں انتظامیہ کی جانب سے سبھی پولنگ مراکز پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں، باوجود اس کے کچھ حلقوں سے تنازعات سامنے آنے کی وجہ سے انتخابی عمل میں رخنہ پڑنے کی خبریں ہیں۔ ریاست میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران سلی گوڑی کے جگدیش چندر ودیا پیٹھ واقع بوتھ نمبر 26/237 پر ووٹنگ ہو رہی تھی کہ اچانک پولنگ بوتھ کے باہر حکمراں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور بی جے پی کارکنان کے درمیان بحث شروع ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ’معمولی‘ کہا سنی بڑے تنازعہ کی شکل اختیار کر گئی اور فریقین کے درمیان جھڑپ ہونے لگی۔بنگال انتخابات: الیکشن کمیشن کا کھلے پولنگ مراکز کے گرد بانس کی عارضی حصار بندی کا حکمواردات کے وقت متعلقہ اسمبلی حلقہ کے بی جے پی امیدوار شنکر گھوش بھی موقع پر موجود تھے۔ بوتھ پر تعینات مرکزی مسلح پولیس فورس (سی اے پی ایف) کے جوانوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بھیڑ کو منتشر کیا اور صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ کہا جا رہا ہے کہ سیکورٹی فورسیز کی مستعدی کی وجہ سے ایک بڑا ناخوشگوار واقعہ ٹل گیا اور ووٹنگ کا عمل پھر سے منظم طور سے شروع کرایا جا سکا۔ سلی گوڑی کا یہ علاقہ حساس مانا جا رہا ہے اور یہاں سیکورٹی میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔VIDEO | West Bengal Election 2026: Several people injured as unidentified people hurled crude bomb in Nowda, Murshidabad district. More details are awaited.#AssemblyPollsWithPTI#WestBengalPollsWithPTI(Full video available on PTI Videos - https://t.co/n147TvrpG7) pic.twitter.com/W7G5A9OqR6— Press Trust of India (@PTI_News) April 23, 2026مغربی بنگال میں مالدہ واقع موتھاباڑی اسمبلی کے بوتھ نمبر 55 پر کافی دیر تک ووٹنگ شروع نہیں ہونے سے بھی تصادم کے حالات پیدا ہو گئے۔ جب لوگ کافی دیر تک قطار میں لگے رہے اور ووٹنگ شروع نہیں ہوئی، تو انھوں نے ہنگامہ کرنا شروع کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بوتھ پر ترنمول کانگریس اور بی جے پی کارکنان میں تصادم ہو گیا، جس سے بوتھ پر حالات کشیدہ ہو چکے ہیں۔ مرشد آباد میں بھی ووٹنگ کے دوران پرتشدد جھڑپ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ ٹی ایم سی کارکنان نے عام جنتا اننین پارٹی (اے یو جے پی) کے سربراہ ہمایوں کبیر کے خلاف نعرے بازی کی۔ تصادم کے حالات پیدا ہونے کے بعد موقع پر سیکورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ یہاں ہر طرف بھیڑ نظر آرہی ہے۔ اسی دوران ہمایوں کبیر موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ایک میڈیا ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں دھرنے پر بیٹھا ہوں، یہاں سے ہٹوں گا نہیں۔‘‘ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہمایوں کبیر کی تلخ بحث اور نوک جھونک کے ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جس میں صورتحال کافی کشیدہ نظر آ رہی ہے۔ حالانکہ اس تصادم اور تنازعہ کی وجہ ابھی صاف نہیں ہو پائی ہے۔