3 سے 5 دن کی مہلت کی خبریں جھوٹی ہیں، ٹرمپ نے تردید کر دی

Wait 5 sec.

واشنگٹن (23 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے معاملے میں کوئی ’’فوری دباؤ یا وقت کی پابندی‘‘ موجود نہیں ہے، اور 12 اپریل کو مذاکرات رکنے کے بعد ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے نئی تاریخ طے کرنے میں بھی کوئی جلدی نہیں۔صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کی مارتھا میک کالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ایران کے ساتھ جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا ہے، اور اس حوالے سے جو ’’3 سے 5 دن کی مدت‘‘ رپورٹ کی گئی تھی وہ ’’غلط‘‘ ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر بھی تبصرہ کیا کہ بدھ کے روز آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے کچھ بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا یا قبضے میں لیا گیا۔ ٹرمپ نے کہا ’’وہ امریکی جہاز نہیں تھے‘‘، اور ساتھ ہی کہا کہ وہ اس صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔امریکی بحریہ کے وزیر جان سی فیلن کو عہدے سے ہٹا دیا گیاجنگ کے خاتمے کے وقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس کے لیے کوئی ’’مقررہ وقت‘‘ نہیں اور نہ ہی کوئی جلد بازی ہے۔ انھوں نے کہا ’’لوگ کہتے ہیں کہ میں یہ سب وسط مدتی انتخابات (مڈ ٹرمز) کی وجہ سے ختم کرنا چاہتا ہوں، یہ درست نہیں ہے۔ ہم امریکی عوام کے لیے ایک اچھا معاہدہ چاہتے ہیں۔‘‘ٹرمپ نے ایران کی حکومت کے بارے میں کہا ’’ان کے لیے ناکہ بندی بمباری سے زیادہ خوف ناک ہے۔ انھیں برسوں سے بمباری کا سامنا رہا ہے، لیکن ناکہ بندی وہ سب سے زیادہ ناپسند کرتے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا ’’جب تیل کے کنویں ایک بار بند ہو جائیں تو بعض اوقات وہ دوبارہ کبھی نہیں کھلتے۔‘‘ٹرمپ نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کو ’’ایک ذہین آدمی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ ’’جب دوبارہ مذاکرات شروع ہوں گے تو وہ اب بھی اپنی جگہ موجود ہوں گے۔‘‘