ہندوستان کی ریاست منی پور میں ایک بار پھر کشیدگی نے پرتشدد رخ اختیار کر لیا ہے۔ جمعہ کے روز ضلع اکھرول میں کوکی اور ناگا برادریوں سے وابستہ مسلح گروہوں کے درمیان شدید فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد پورے علاقے میں شدید تناؤ پایا جا رہا ہے اور حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے سیکورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔مقامی پولیس کے مطابق یہ جھڑپ سیناکیتھیئی اور ملام گاؤں کے درمیان پیش آئی۔ زخمی ہونے والوں میں تین افراد کوکی برادری سے جبکہ تین ناگا برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں اور حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق ملام گاؤں، جہاں زیادہ تر کوکی برادری کے لوگ رہتے ہیں، اکھرول ضلع میں ایک الگ تھلگ آبادی ہے جو ناگا اکثریتی دیہات سے گھری ہوئی ہے۔ دوسری جانب سیناکیتھیئی گاؤں تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ملام گاؤں کی انتظامیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے گاؤں پر تانگکھل ناگا شدت پسندوں نے حملہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ حملہ بڑے پیمانے پر اور منظم انداز میں کیا گیا۔ادھر انسانی حقوق کے لیے سرگرم کوکی خواتین کی تنظیم نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے پرامن دیہات پر بلا اشتعال حملہ قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے ہوائی فائرنگ کر کے خوف پھیلایا اور اس کے بعد منظم انداز میں گاؤں کو نشانہ بنایا۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں کم از کم پندرہ مکانات کو نقصان پہنچا، چھ شہری زخمی ہوئے جبکہ دو افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے علاقے میں خوف اور غیر یقینی کی فضا مزید گہری ہو رہی ہے۔دریں اثنا، نسلی تشدد سے متاثرہ کوکی-زو برادری کے بے گھر افراد نے ضلع چوراچاندپور میں احتجاج کیا۔ مظاہرین نے توئبونگ میں واقع وال آف ریمیمبرنس پر دھرنا دیا اور اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔ انہوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف مطالبات درج تھے، جن میں براہ راست مالی امداد کی مدت میں توسیع اور تمام متاثرین کے ساتھ یکساں سلوک شامل ہے۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ امدادی اقدامات بغیر کسی امتیاز کے تمام متاثرین تک پہنچائے جائیں۔ بعد ازاں نمائندوں نے اپنا یادداشت نامہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے نام ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے پیش کیا۔ مجموعی طور پر صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔