لندن : برطانوی پارلیمنٹ نے 18 سال یا اس سے کم عمر افراد پر سگریٹ نوشی اور خریدنے پر سخت پابندی عائد کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی۔خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں حکومت نے ایک تاریخی اقدام کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے سگریٹ نوشی پر پابندی سے متعلق بل منظور کرکے تاریخی قدم اٹھالیا۔رپورٹ کے مطابق ٹوبیکو اینڈ ویپس بل کے تحت جو افراد یکم جنوری 2009 کے بعد پیدا ہوئے ہیں وہ مستقبل میں سگریٹ اور تمباکو مصنوعات خریدنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔قانون کے تحت مذکورہ افراد عملی طور پر تاحیات پابندی کا سامنا کریں گے، اس قانون کا باقاعدہ اطلاق آئندہ ہفتے شاہی منظوری (رائل اسسنٹ) کے بعد فوری طور پر ہوجائے گا۔نئے قانون میں ویپنگ (ای سگریٹ) اور نکوٹین مصنوعات پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن میں 18سال سے کم عمر افراد کو فروخت پر مکمل پابندی، اشتہارات، نمائش، مفت تقسیم اور رعایتی آفرز پر قدغن شامل ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایک ’اسموک فری جنریشن‘ بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے، جس سے نوجوانوں کو نکوٹین کی لت سے بچایا جاسکے گا اور صحت کے نظام پر دباؤ بھی کم ہوگا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں ہر سال تقریباً 64 ہزار اموات کا سبب بنتی ہے اور اسی کے سبب لاکھوں افراد اسپتال میں داخل کیے جاتے ہیں۔جبکہ سگریٹ نوشی سے این ایچ ایس کو سالانہ تقریباً 3 ارب پاؤنڈ کا نقصان ہوتا ہے اور مجموعی معاشی لاگت 20 ارب پاؤنڈ سے تجاوز کرجاتی ہے۔اس کے علاوہ دل کے امراض، فالج، ذیابیطس، دمہ، ڈیمنشیا اور حتیٰ کہ مردہ بچوں کی پیدائش جیسے سنگین خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔سگریٹ نوشی کرنے والوں کے لیے بُری خبر!