کسی ایک ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، خلیجی رہنماؤں کا اعلان

Wait 5 sec.

جدہ:  خلیج تعاون کونسل کے 19 ویں مشاورتی اجلاس میں خلیجی رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی میزبانی میں خلیجی تعاون کونسل کا 19واں مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کی۔اجلاس میں خطے کی موجودہ کشیدگی، ایران کی جانب سے کیے جانے والے حملوں اور دفاعی حکمت عملی پر انتہائی اہم فیصلے کیے گئے۔خلیجی رہنماؤں نے ایک تاریخی اور مضبوط موقف اپناتے ہوئے اعلان کیا کہ کونسل کے کسی بھی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔جی سی سی کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک اور اردن پر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی گئی، شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خلیجی افواج نے حال ہی میں میزائل اور ڈرون حملوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنا کر اپنی دفاعی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔اجلاس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال پر دو ٹوک موقف اختیار کیا گیا آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کر دیا گیا ہے۔کونسل نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی سمندری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔اجلاس کے اختتامی اعلامیے میں بیلسٹک میزائلوں کے خلاف "ابتدائی وارننگ سسٹم”کو جلد از جلد مکمل کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی فضائی خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔