(29 اپریل 2026): جنوبی سوڈان میں قحط کے شدید خطرات منڈلانے لگے ہیں، جہاں تقریباً 80 لاکھ افراد بھوک کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔الجزیرہ اور عالمی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق نے خبردار کیا ہے کہ ملک کی نصف سے زائد آبادی کو اس وقت سنگین غذائی قلت کا سامنا ہے۔جنوبی سوڈان میں صورتحال تیزی سے ایک بڑے انسانی بحران میں تبدیل ہو رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق مسلسل تنازعات، خانہ جنگی اور بدامنی نے ملک میں خوراک کی فراہمی کا پورا نظام تباہ کر کے رکھ دیا ہے، جس کے باعث 7.8 ملین افراد پیٹ بھرنے کے لیے ترس رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس بحران سے سب سے زیادہ بچے متاثر ہو رہے ہیں۔ ملک میں تقریباً 22 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، جبکہ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 7 لاکھ کے قریب بچوں کو جان لیوا غذائی کمی کے باعث موت کے خطرات لاحق ہیں۔واضح رہے کہ جنوبی سوڈان پہلے ہی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو بدترین غذائی بحران کا شکار ہیں، تاہم حالیہ حالات نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری امداد کی ضرورت کو مزید بڑھا دیا ہے۔