جدہ : خلیجی ممالک نے ایران کی آبنائے ہرمز کی بندش کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیرقانونی قرار دے دیا اور مشترکہ دفاعی نظام پر اتفاق کیا۔تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت خلیج تعاون کونسل کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایران کے حالیہ اقدامات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔سعودی عرب میں ہونے والے اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں قطر، بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ جہاز رانی کو متاثر کرنے یا کسی بھی قسم کا ‘فیس’ (ٹیکس) عائد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔کونسل نے ایرانی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ خطے میں ‘جنگ سے پہلے جیسی’ سیکیورٹی اور آزادانہ نقل و حرکت کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔اجلاس میں خطے کے استحکام کے لیے تمام رکن ممالک نے دفاعی تعاون بڑھانے پر زور دیتے ہوئے مشترکہ انفراسٹرکچر اور میزائل وارننگ سسٹم کی تنصیب کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں ہونے والے اس مشاورتی عمل کا مقصد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کا مقابلہ کرنا اور عالمی تجارتی گزرگاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔خلیجی ممالک نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اپنے سمندری مفادات اور اقتصادی استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔