صحافی جمی کیمل نے میلانیا ٹرمپ سے متعلق کیا کہا جس پر صدر ٹرمپ نے ان کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا؟

Wait 5 sec.

واشنگٹن (28 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو مطالبہ کیا ہے کہ اے بی سی چینل لیٹ نائٹ شو کے میزبان جمی کیمل کو فارغ کر دے، کیوں کہ انھوں نے اپنے شو میں وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹس ڈنر کے ایک اسکیچ کے دوران خاتون اوّل میلانیا ٹرمپ کو مذاقاً ’’متوقع بیوہ‘‘ کہہ دیا تھا۔اس سے قبل میلانیا ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ ان ریمارکس کی وجہ سے جمی کیمل کو نوکری سے نکال دینا چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر لکھا ’’جمی کیمل کو فوری طور پر ڈزنی اور اے بی سی سے نکال دیا جانا چاہیے۔‘‘ انھوں نے اس مذاق کو ’’تشدد کی قابل مذمت ترغیب‘‘ قرار دیا۔کیمل نے یہ جملہ اپنے شو ’’جمی کیمل لائیو‘‘ میں جمعرات کو کہا تھا، یعنی وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹس ڈنر سے چند دن قبل، جس میں ایک مسلح شخص نے داخل ہو کر فائرنگ کی تھی، جس کی وجہ سے صدر ٹرمپ، میلانیا اور دیگر اعلیٰ حکام کو حفاظتی اقدام کے طور پر فوری طور پر نکال کر لے جایا گیا تھا۔ کیمل نے طنزیہ انداز میں کہا تھا ’’خاتونِ اوّل ایسی چمک رکھتی ہیں جیسے ایک متوقع بیوہ۔‘‘حملہ ڈراما تھا؟ کیرولائن لیوٹ کا ردِ عملمیلانیا ٹرمپ نے پیر کی صبح X ایک پوسٹ میں کہا کہ کیمل کا مونولاگ ’’کامیڈی نہیں بلکہ زہریلا ہے‘‘ اور یہ امریکا میں سیاسی بیماری کو بڑھا رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایسے افراد کو ہمارے گھروں میں ہر رات نفرت پھیلانے کا موقع نہیں ملنا چاہیے، اور اے بین سی پر الزام لگایا کہ وہ کیمل کی حمایت کر رہا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ادارے کو اس کے خلاف سخت قدم اٹھانا چاہیے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ ملانیا ٹرمپ کے بارے میں جمی کیمل کے ریمارکس انتہائی حیران کن اور شرم ناک ہیں، ان کے خاتون اوّل کو متوقع بیوہ کے ریمارکس کے بعد فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، مسلح شخص بدترین ارادے کے ساتھ وائٹ ہاؤس عشائیہ کی تقریب میں آیا، کیمل کے ریمارکس پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ امریکی صدر نے مطالبہ کیا ڈزنی اور اے بی سی نیٹ ورک جمی کیمل کو فوری ملازمت سے برطرف کرے۔یہ تنازع اے بی سی کی پیرنٹ کمپنی ڈزنی کے لیے آزادیٔ اظہار کا بڑا امتحان بن گیا ہے، کیمل نے اس سے پہلے بھی صدر ٹرمپ پر طنزیہ جملے کسے تھے، جن میں انھوں نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک تقریب اور ٹرمپ کے سوشل میڈیا پوسٹس کا مذاق اڑایا تھا، جنھیں بعد میں ہٹا دیا گیا تھا۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے کیمل کے ریمارکس کو ’’شدید غیر متوازن‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ایسے بیانات لوگوں کو تشدد کی طرف مائل کر سکتے ہیں۔ یہ تنازع اب ڈزنی کے نئے سی ای او جوش ڈی امارو کے لیے بھی پہلا بڑا امتحان سمجھا جا رہا ہے۔