امریکی ناکہ بندی کے باوجود ’آبنائے ہرمز‘ سے کیسے گزر رہے جہاز؟

Wait 5 sec.

مشرق وسطیٰ کی جنگ نے پوری دنیا کے نظام کو درہم برہم کر دیا ہے۔ اس جنگ کے درمیان ایک طرف ایران نے سب سے مصروف سمندری راستوں میں شامل ’آبنائے ہرمز‘ پر پابندی عائد کر دی، تو دوسری طرف امریکہ نے اس پر مکمل طور سے ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اس ناکہ بندی کے باوجود کئی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف بڑھے ہیں۔ کچھ جہاز تو ممبئی بھی پہنچے ہیں، جس سے سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر یہ کیسے ممکن ہو پا رہا ہے۔واضح رہے کہ امریکی بحریہ خلیج عمان میں تعینات ہے تاکہ ایران سے آنے جانے والے جہازوں کو روکا جا سکے۔ لیکن امریکی دعووں کے باوجود یہ ناکہ بندی مکمل طور سے کامیاب نہیں ہو پائی ہے۔ درجنوں ٹینکر اس گھیرا بندی کو توڑ کر وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ایسا دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک ایسا راستہ بھی ہے جہاں سے جہاز ایران کے ’جزیرہ خارگ‘ سے براہ راست ممبئی تک پہنچ سکتے ہیں۔ حالانکہ دھیرے دھیرے جہازوں کو انتہائی مستعدی کے ساتھ نکالا جا رہا ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق اب بھی تقریباً 14 ہندوستانی جہاز آبنائے ہرمز میں موجود ہیں۔اگرچہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے، لیکن حقیقت کچھ الگ ہی کہانی بیان کرتی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور ماہرین کا کہنا ہے کہ 13 اپریل کو ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایران سے وابستہ کم از کم 34 ٹینکر اس گھیرا بندی کو چکما دے کر نکلنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال ہندوستانی جہاز ’دیش گریما‘ ہے۔ یہ ٹینکر قطر کے راس لفان سے 97000 میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے۔ اس راستے پر اسے ایرانی گولی باری کا سامنا کرنا پڑا، لیکن گزشتہ بدھ کو بحفاظت ممبئی بندرگاہ پر پہنچ گیا۔آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے بہ حفاظت ہندوستان کی طرف بڑھا ’گرین سانوی‘، جہاز میں موجود ہے 47 ہزار ٹن ایل پی جیمالیاتی منصوبہ ساز جِم بیانکو اور پاڈکاسٹ ہوسٹ ماریو نول نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستانی جہاز ایک ایسے راستے سے آ رہے ہیں جو امریکی رڈار سے بچ نکلتا ہے۔ یہ راستہ ایران کے علاقائی سمندری راستے کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ جہاز ایران کے ساحل کے بے حد قریب رہتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور پھر براہ راست پاکستان کے سمندری علاقے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ دراصل امریکہ کسی دوسرے ملک کے علاقائی سمندر میں دخل نہیں دے سکتا، اس لیے یہ جہاز بین الاقوامی سمندری علاقے میں آئے بغیر ہی محفوظ طریقے سے نکل جاتے ہیں۔ایران کے جزیرہ خارگ (جہاں سے ایران کا 90 فیصد تیل برآمد ہوتا ہے) سے ہندوستان آنے کے لیے بنیادی طور پر 2 راستے ہو سکتے ہیں۔ پہلا راستہ پاکستانی ساحل کا ہے جو مکران کے ساحل کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ اس میں جہاز ایرانی سمندری حدود سے براہ راست پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس طرح اسے بین الاقوامی سمندری حدود میں جانے کی ضرورت نہیں پڑتی، جہاں امریکی بحریہ کی ناکہ بندی ہے۔ دوسرا چابہار بندرگاہ کا راستہ ہے جہاں سے جہاز براہ راست جنوب کی طرف مڑ کر بین الاقوامی سمندری حدود میں داخل ہو جاتا ہے۔ وہاں سے ممبئی، گجرات یا کیرلم کے بندرگاہوں کے لیے برارہ راست راستہ ملتا ہے۔مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایل پی جی سے بھرے 2 مزید جہازوں نے آبنائے ہرمز کو پار کیاایسے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستانی جہاز پاکستانی پانی کا استعمال کر سکتے ہیں؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ اقوام متحدہ کے قانون (یو این سی ایل او ایس) کے تحت ہر ساحلی ملک کا اپنے ساحل سے 12 سمندری میل (تقریباً 22 کلومیٹر) تک کنٹرول ہوتا ہے۔ غیر ملکی تجارتی جہازوں کو ان سمندری حدود سے ’بظاہر بے ضرر گزرگاہ‘ (انوسینٹ پیسیج) کا حق حاصل ہوتا ہے۔دفاعی ماہر سندیپ انیتھن کے مطابق ہندوستانی جہازوں کے لیے پاکستانی پانی سے گزرنے میں تکنیکی طور پر کوئی پابندی نہیں ہے، بشرطیکہ وہ پرامن طریقے سے بغیر رکے پار ہو رہے ہوں۔ حالانکہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر نہیں ہیں اس لیے اس راستے میں خطرے کا امکان ہے۔ گزشتہ سال ہوئے پہلگام حملے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے جہازوں پر اپنے بندرگاہوں کے استعمال کو لے کر سخت پابندی عائد کر رکھے ہیں۔ایک ریٹائرڈ بحریہ افسر (کموڈور) نے بتایا کہ ہندوستانی بحریہ اس بحران میں ایک پرسکون لیکن اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو پاکستانی پانی کے استعمال کی ضرورت نہیں ہے۔ جب وزات خارجہ کسی جہاز کے گزرنے کے لیے بات چیت کر لیتی ہے تو ہندوستانی بحریہ خلیج عمان میں ایک پہلے سے طے شدہ مقام پر ملتی ہے۔ وہاں سے بحریہ کی سیکورٹی میں جہاز براہ راست ہندوستان کے مغربی ساحل کے کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ یہ علاقہ امریکی اور ایرانی آپریشنل زون سے دور ہوتا ہے۔