کیجریوال کے بعد سسودیا نے بھی جسٹس سورن کانتا کو لکھا خط، ہائی کورٹ میں پیش نہ ہونے کی دی جانکاری

Wait 5 sec.

آبکاری پالیسی گھوٹالہ معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ میں جاری سماعت سے اروند کیجریوال کے بعد اب منیش سسودیا نے بھی خود کو الگ کر لیا ہے۔ منیش سسودیا نے جسٹس سورن کانتا شرما کو اس بارے میں خط لکھ کر جانکاری دی۔ کیجریوال کی طرح سسودیا نے بھی جسٹس سورن کانتا شرما کی عدالت میں خود یا وکیل کے پیش نہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔منیش سسودیا نے خط میں لکھا ہے کہ ’’میری طرف سے بھی کوئی وکیل پیش نہیں ہوگا۔ آپ کے بچوں کا مستقبل سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے ہاتھوں میں ہے۔ ایسے میں مجھے انصاف کی امید نہیں ہے۔ ستیہ گرہ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔‘‘دوسری طرف سی بی آئی کی اپیل عرضی پر جسٹس سورن کانتا شرما کی جانب سے سماعت کیے جانے پر اعتراض ظاہر کرنے کے بعد کیجریوال نے فیصلہ کیا کہ وہ آگے اس معاملے میں نہ تو خود پیش ہوں گے اور نہ ہی ان کے کوئی وکیل جرح کریں گے۔ کیجریوال نے جسٹس سورن کانتا شرما کو 4 صفحات کا خط لکھ کر یہ معلومات دی۔ خط میں انہوں نے کہا تھا کہ میں ضمیر کی آواز سن کر یہ فیصلہ لے رہا ہوں۔ میں اس کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ اس سے میرے قانونی مفادات کو نقصان پہنچے، لیکن میں اس کے لیے تیار ہوں۔ کیجریوال نے واضح کیا کہ وہ جسٹس شرما کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اپنا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خط میں عدالت میں بحث کے دوران دی گئی دلیل دہراتے ہوئے کہا کہ انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔’آپ سے انصاف کی امید نہیں‘، جسٹس سورن کانتا کو خط لکھ کر کیجریوال نے سماعت کے بائیکاٹ کا کیا اعلانخط میں کیجریوال نے مہاتما گاندھی کے ستیہ گرہ کے اصول کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ صرف اسی معاملے تک محدود ہے۔ انہوں نے جسٹس سجوئے پال اور جسٹس اتل شری دھرن کی مثال دی، جنہوں نے اپنے خاندان کے ارکان کے وکالت کرنے کی وجہ سے ہائی کورٹ سے تبادلے کی درخواست کی تھی۔ کیجریوال نے لکھا کہ جسٹس شرما کے تبصروں سے ان کی عرضی کو عدالتی اور ادارہ جاتی توہین کے طور پر لیا گیا، جس کے بعد غیر جانب دار سماعت کی امید نہیں رہی ہے۔قابل ذکر ہے کہ دہلی ہائی کورٹ میں سی بی آئی نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہے، جس میں آبکاری گھوٹالے میں کیجریوال سمیت تمام 23 ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔ اس اپیل عرضی پر جسٹس سورن کانتا شرما سماعت کر رہی ہیں۔ کیجریوال نے 13 اپریل کو ذاتی طور پر پیش ہو کر جسٹس شرما سے خود کو معاملے سے الگ کرنے کی درخواست کی تھی۔ 20 اپریل کو عدالت نے ان کی اس عرضی کو خارج کر دیا اور تبصرہ کیا کہ کسی سیاست دان کو عدلیہ پر عدم اعتماد پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس فیصلے کے بعد کیجریوال نے خط لکھ کر کہا کہ اب انہیں یقین نہیں رہا کہ جسٹس شرما غیر جانب دار طریقے سے سماعت کر پائیں گی۔