امریکی ویزا قوانین میں 2 بڑی تبدیلیاں: کیا سوالات پوچھے جائیں گے؟

Wait 5 sec.

واشنگٹن: امریکا کی جانب سے نان امیگرنٹ ویزا درخواست دہندگان کے لیے قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے 2 نئے سوالات شامل کئے گئے ہیں، جن کا مقصد یہ تصدیق کرنا ہے کہ درخواست گزار اپنے ملک واپس جانے سے خوفزدہ نہیں ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانوی اخبار دی گارجین نے انکشاف کیا ہے کہ ویزا انٹرویو کے دوران تمام درخواست دہندگان سے 2 نئے سوالات پوچھے جائیں گے، کیا آپ کو اپنے ملک میں کسی نقصان یا بدسلوکی کا سامنا رہا ہے؟ کیا آپ کو اپنے ملک واپس جانے پر کسی نقصان یا بدسلوکی کا خوف ہے؟حکام نے کہا ہے کہ اگر کوئی درخواست گزار ان سوالات کے جواب میں ہاں کہتا ہے یا جواب نہیں دیتا تو اس کا عارضی ویزا مسترد کیے جانے کا امکان یقینی ہو گا۔رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکام کے مطابق بڑی تعداد میں غیر ملکی شہری امریکا میں پناہ لینے کے دعوے کر رہے ہیں۔نئی پالیسی کا اطلاق تمام نان امیگرینٹ ویزا کیٹیگریز پر ہو گا جن میں سیاحتی، تعلیمی، ایچ ون بی، ٹیک ورکرز، زرعی مزدور اور کاروباری افراد شامل ہیں۔فضائی سفر مزید مہنگا ہونے کی پیشگوئیمحکمہ خارجہ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2024ء میں ان کیٹیگریز میں تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ ویزے جاری کیے گئے، تاہم قانونی ماہرین نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اصول حقیقی پناہ کے متلاشی افراد کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔نئی پالیسی ایسے افراد کو بھی روک سکتی ہے جو گھریلو تشدد، صحافتی دھمکیوں یا مذہبی بنیادوں پر ظلم و ستم کا شکار ہوں۔