نیویارک : امریکی اخبار سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران چند روز میں جنگ بندی کے لیے ترمیمی مسودہ پیش کرسکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں ایک نئی سفارتی ہلچل دیکھنے میں آئی ہے، ‘سی این این کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران آئندہ چند روز میں جنگ بندی کے لیے ایک ‘ترمیمی مسودہ’ پیش کر سکتا ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی روس کے اہم دورے کے بعد تہران واپس پہنچ کر اعلیٰ قیادت سے مشاورت کریں گے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ رابطوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کسی خفیہ مقام پر ہونے کی وجہ سے اہم پیغام رسانی میں تاخیر ہو رہی ہے۔امریکی اخبار کے مطابق تہران سے ہدایات ‘ہیومن چین’ (انسانی ذرائع) اور تحریری پیغامات کے ذریعے موصول ہو رہی ہیں، جس سے سفارتی عمل سست روی کا شکار ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے، جس میں ایٹمی پروگرام کو شامل کیے بغیر صرف جنگ بندی کی بات کی گئی تھی۔ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو واضح کیا کہ جوہری مذاکرات کے بغیر کوئی بھی ڈیل ‘حقیقت پسندانہ’ نہیں ہے۔امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کو کسی بھی قیمت پر ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور مذاکرات کا محور جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مذاکرات میں تعطل عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے جبکہ مذاکرات میں تاخیر کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جو عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔